پرائیویٹ یونیورسٹیز اور جن وشواس بل منظور، 22 نشستوں میں 110 گھنٹے بحث؛ سپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا
جان محمد
جموں: جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا بجٹ سیشن 2026 اہم قانون سازی اور تفصیلی ایوانی کارروائی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا، جس کے دوران کئی اہم بل منظور کیے گئے جبکہ سپیکر نے سیشن کی مجموعی کارکردگی اور اعداد و شمار بھی پیش کیے۔ بجٹ سیشن کے آخری روز ایوان نے جموں و کشمیر پرائیویٹ یونیورسٹیز بل 2026 منظور کیا، جس کے ذریعے یونین ٹیریٹری میں نجی یونیورسٹیوں کے قیام، ان کے نظم و نسق اور تعلیمی معیار کو منظم کرنے کا فریم ورک فراہم کیا گیا ہے۔ وزیر تعلیم سکینہ ایتو کی جانب سے پیش کردہ اس بل کا مقصد معیاری اعلیٰ تعلیم کو فروغ دینا اور طلبہ کے مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ بحث کے دوران اراکین اسمبلی کی جانب سے پیش کی گئی ترامیم بعد ازاں واپس لے لی گئیں جبکہ ایک ترمیم کو صوتی ووٹ کے ذریعے مسترد کر دیا گیا۔
وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے اس بل کی منظوری کو نوجوانوں کے لیے ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف اعلیٰ تعلیم کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ طلبہ کو بیرونِ ریاست جانے کی ضرورت میں بھی کمی آئے گی اور معروف تعلیمی اداروں کو جموں و کشمیر میں سرمایہ کاری کی ترغیب ملے گی۔ اسی روز ایوان نے جموں و کشمیر جن وشواس دوم (ترمیمی دفعات) بل 2026 بھی منظور کیا، جس کا مقصد بعض قوانین میں ترمیم کے ذریعے جرائم کو غیر فوجداری بنانا، قوانین کو معقول بنانا اور کاروباری ماحول کو آسان بنانا ہے۔ یہ بل وزیر زراعت جاوید احمد ڈار نے پیش کیا تھا اور اسے بھی ایوان نے منظوری دے دی۔
سپیکر عبدالرحیم راتھر نے سیشن کے اختتام پر ایوانی امور کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مجموعی طور پر 22 نشستوں میں 110 گھنٹے اور 6 منٹ تک کارروائی جاری رہی۔ اس دوران 8 سرکاری بل منظور کیے گئے جبکہ 25 دستاویزات اور ایک آرڈیننس بھی پیش کیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کل 1,528 سوالات موصول ہوئے جن میں سے 1,379 کو فہرست میں شامل کیا گیا اور 151 سوالات ایوان میں اٹھائے گئے۔ اس کے علاوہ 331 ضمنی سوالات بھی زیر بحث آئے۔ توجہ دلاؤ نوٹسز، قراردادوں اور کٹ موشنز کی بڑی تعداد بھی سیشن کے دوران پیش کی گئی، جن میں سے کئی کو منظور یا مسترد کیا گیا۔ آخر میں سپیکر نے ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا، یوں بجٹ سیشن 2026 اہم قانون سازی، وسیع بحث اور عوامی مسائل پر غور و خوض کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
