محمداعظم شاہد

حساس ذہن اپنے کل کو کبھی نہیں بھولتا- جس دور میں آج میں جی رہا ہوں، اس کی جڑیں اس کے کل میں پیوست ہوتی ہیں اور آنے والا کل کسی بھی شخص کے کل اور آج سے جڑا رہتا ہے – وہ بچپن کی یادیں، وہ سہانا پن، وہ معصومیت، زندگی کے بکھیڑوں سے ناآشنائی، چھوٹی چھوٹی خوشیوں کی بڑی بڑی یادیں گذرتی عمر کے ساتھ یاد بہت آتی ہیں- جس کو فرصت ہو بیتی یادوں کو یاد کرنے کی اس کے ساتھ اس کی یادوں کا کارواں ساتھ ساتھ چلتا ہے – آزمائشوں سے نبرد آزما ہوکر، نشیب وفراز سے گذرتے کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ گذرا ہوا وہ بے فکری کا زمانہ ،وہ بچپن ، وہ سادگی پھر سے لوٹ آئے-مگر ایسا ہونا کہاں ممکن ہے -بچپن کی جہاں خوشگوار یادیں ہمارے وجود کا انمٹ حصہ ہیں -وہ یادیں کل اور آج کا موازنہ ہیں تو ہمارے سفرِحیات کا آئینہ بھی ہیں – بار بار جب وہ یادیں ستاتی ہیں بے چین کرتی ہیں –
دل کی نازک رگیں ٹوٹتی ہیں
یاد اتنا بھی کوئی نہ آئے
اوربچپن کی ان یادوں کا سلسلہ ہمارے اندر جاگزیں رہتا ہے -وہ گذرا دور ہمارا ہمارے لاکھ بلانے پر بھی کہاں آپائے گا-
ہائے رے اکیلے چھوڑ کے جانا
اور نہ آنا بچپن کا
آیا ہے مجھے پھر یاد وہ ظالم
گذرا زمانہ بچپن کا
ترقی اور شہرت کے حصول کی بھیڑ بھاڑ میں وہ بولتی خاموشیاں صرف احتساب لگتی ہیں – سب کچھ سیکھ لیا – سب کچھ پالیا- مگر دانشمندی وفراست کی دوڑ میں معصومیت دوری بڑھتی ہی جاتی ہے -وہ گذرے موسم، وہ ساتھی، وہ گھر، وہ چاہتیں، روٹھنا، منانا، جھگڑنا، ملنا زندگی کی حقیقی دولت معلوم ہونے لگتی ہیں -اکثر دل کی گہرائیوں سے صدا اٹھتی ہے-
یہ دولت بھی لے لو یہ شہرت بھی لے لو
بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی
مگر مجھ کو لوٹادوبچپن کا ساون
وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی
جب اپنا وہ بچپن یاد آنے لگتا ہے وہ سارے منظر یادوں میں زندہ ہوجاتے ہیں -وہ وسائل کی تنگ دامنی مگر راحتوں کی مہک سے زندگی معطر تھی – بڑے ہوئے فراوانی سے ہمکنار ہونے لگے- وہ قلبی سکون وراحتوں کا سامان حالات کی تگ ودو میں کشمکش میں گم ہونے لگا -آج کے نونہالوں کے بچپن میں وہ سادگی اور معصومیت جاتی رہی – گلی محلے کا تصور، وہ کھیل وہ ساتھی، وہ جھولے وہ ہنسی وہ قہقہے معدوم ہونے لگے- اب بچپن گھروں کی چار دیواری میں پرورش پانے لگا- گھر کے مکین ٹی وی کے رسیا، اب ہرکوئی جزیروں میں بٹا ہوا ، بات کرنے حال پوچھنے کی فرصت کم ہی ہوگئی یا پھر ضرورت ہی ختم ہوگئی- موبائل فون نے کسر پوری کردی- سب ساتھ ہیں مگر سب کی نظریں جمی ہوئی موبائل پر -توجہ کے طلبگار ننھے بچے روکر احتجاج اپنا جتاتے ہیں- بہلانے انہیں بچوں کے Rhyones دکھلائے جاتے ہیں – یہاں تک کہ انہیں کھلانے کے دوران ضد نہ کریں وہیں animated songs کا سہارا لیا جاتا ہے –
باہر کی دنیا سے بڑے شہروں میں جب رشتہ ہی مضبوط نہ ہوتو نہ وہ بچپن سہانا ہوپائے گا – وہ چڑیا، وہ بلبل، تتلی، پیڑ پودے ، دھوپ ، بادل، بارش، سردی ان سب کا احساس بھی کہاں سماپائے گا -ایسے میں وہ بارش کا پانی اور نہ ہی وہ کاغذ کی کشتی کا دل لبھانے والا شوق نہ ابھرپائے گا اور نہ ہی چھوکر گذرے گا-
اُداس رہتا ہے محلے میں
بارش کا پانی آج کل
سنا ہے کاغذ کی نا¶
بنانے والے بڑے ہوگئے
اِن دنوں جس طرح کا ماحول میسر ہے لگتا ہے کہ بچے جلد بڑے ہونے لگے ہیں – پانچ یا چھ سال کی عمر میں اسکولوں میں داخلہ ہوا کرتا تھا-اب تین سال کی عمر کو پہنچتے پہنچتے نرسری میں داخلہ کا مرحلہ اور پہلی جماعت سے پہلے دو سال کنڈرگارٹن کی تعلیم یہ سب بدلتے وقت کے تقاضے ہی کیوں نہ ہوں- اب بچپن وہ سہانے پن سے دور ہونے لگا ہے – عالیشان تعلیمی اداروں کا پھیلتا جال اوران کی مانگ میں روز افزوں اضافہ جگ ظاہر ہے – تین سالہ معصوم بچوں کےلئے داخلہ امتحان اور والدین کا انٹرویو یہ سب اب صارفیت کا حصہ بن گئے ہیں-نئی نسل میں ساون کی یادیں وہ لڑکپن کے قصے وہ کہانیاں مسابقتی دورکی بھاگ دوڑ میں نہیں معلوم کس حد تک اور کیسے یاد آئیں گی- برستے موسلادھار بارش کے پانی سے بچنے کے جتن کرنے والے زمانے میں اب نہ گلی محلوں میں وہ سکون باقی رہ گیا ہے اورنہ اب وہ فرصت ہے کہ کاغذ کی نا¶ بنے اور بارشوں کے بعد بہتے ہوئے پانی میں بہائی جائے – مگر جنہوں نے اپنے بچپن میں وہ گلی محلے دیکھے، معصوم شرارتوں ،ڈانٹ کھائی، محبتوں کے مشفق ماحول میں پرورش پائی ان کے اندر ان کا بچپن سلامت رہتا ہے – اس کی یادیں ایک ناقابل بیان راحتوں سے معمور ہوتی ہیں-
میرے دل کے کسی کونے میں اک معصوم سا بچہ
بڑوں کی دیکھ کر دنیا بڑا ہونے سے ڈرتا ہے
