نامور شاعر و ادیب کے انتقال پر گہرے رنج و غم کی لہر، گوجری زبان و ثقافت کو ناقابلِ تلافی نقصان
عمارت ڈیسک
پونچھ/جموں؍؍ گوجری زبان کے ممتاز شاعر، ادیب اور ڈرامہ نگار بابو نور محمد نور 4 اپریل 2026 کو اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے، جس سے گوجری ادب اور قبائلی ثقافت ایک عظیم شخصیت سے محروم ہو گئی۔مرحوم کی نمازِ جنازہ سہ پہر 4 بجے آبائی علاقہ میں ادا کی گئی اور چنڈک پونچھ میں تدفین کی گئی۔ پونچھ کے خوبصورت گاؤں چنڈک میں فروری 1942 میں پیدا ہونے والے بابو نور محمد نور نے اپنی پوری زندگی گوجری زبان و ادب کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد منگا کھٹانہ سے حاصل کی، جنہوں نے انہیں قرآن و حدیث کی تعلیم دی، جبکہ بعد میں گورنمنٹ ہائی اسکول منڈی سے میٹرک مکمل کیا اور محکمہ مال میں ملازمت اختیار کی۔ تاہم، ان کا اصل شوق اور پہچان ادب رہا، جس میں انہوں نے بے مثال خدمات انجام دیں۔
تفصیلات کے مطابق پہاڑوں کی گود میں بسا پونچھ کا وہ خوبصورت گاؤں چنڈک، جہاں فروری 1942 میں ایک ایسا بچہ پیدا ہوا جس نے گوجری زبان کو نئی پرواز دی۔ آج، 4 اپریل 2026 کو، نور محمد نور اس عارضی دنیا کو الوداع کہہ کر ابدی سکون کی دنیا میں چلے گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ان کی جدائی کا غم گوجری کے ہر گھر، ہر دل میں سما گیا ہے، جیسے کوئی قدیم چاندنی رات اچانک اندھیرے میں ڈوب جائے۔ وہ جو گوجری ادب کے سمندر میں موتی بکھیرتے رہے، آج آسمانوں کی طرف اڑ گئے، مگر ان کی روشنی ہمیشہ رہے گی۔ گوجری سماج ایک عظیم خسارے کا شکار ہے، جو کبھی پورا نہ ہوگا۔
نور صاحب کا گھرانہ ادبی اور علمی روایات کا خزانہ تھا۔ والد بزرگوار منگا کھٹانہ نے انہیں بچپن سے ہی قرآن و حدیث کی تعلیم دی، جو ان کی شخصیت کی بنیاد بنی۔ مقامی اسکول میں دنیوی تعلیم حاصل کی، پھر گورنمنٹ ہائی اسکول منڈی سے میٹرک پاس کر کے محکمہ مال میں نوکری کی۔ مگر نوکری تو صرف معاش کا ذریعہ تھی؛ ان کا دل تو ادب کی طرف سے بچپن میں ہی بہک چکا تھا۔ طالب علمی کے دنوں میں ہی ان کی شاعری نے لوگوں کو مسحور کر دیا۔ پہاڑی اور پنجابی میں بھی خوبصورت تخلیقات کیں، مگر گوجری ان کا جنون، ان کا مشن تھی۔ انہوں نے گوجری کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ اسے نئی جہتوں سے روشن کیا، جیسے کوئی ماہر بافق کا دیا ہو جو اندھیرے کو چیر دے۔
ان کی اصلاحی نظموں کا سلسلہ تو ایک دریائے علم کی مانند ہے۔ سیکڑوں نظموں میں انہوں نے تعلیم کی اہمیت سکھائی، مادری زبان کی حفاظت کا درس دیا، اور سماجی برائیوں جیسے نابالغ بیاہ، دوسری شادیوں کے مسائل کو اجاگر کیا۔ ’’دو بیاہ‘‘، ’’نکی عمر‘‘، ’’راجو‘‘جیسی نظمیں آج بھی گوجری محفلوں میں گائی جاتی ہیں، اور ان کا پیغام نسلوں تک پہنچے گا۔ خاص طور پر، جب گوجری تھیٹر کا کوئی نام لیوا نہ تھا، نور صاحب نے ’’نکی عمر کو بیاہ‘‘، ’’دوجو بیاہ‘‘، ’’مقدم گی کچہری‘‘،’’اڑی‘‘، ’’دیسی علاج‘‘جیسے ڈراموں سے اسے متعارف کروایا۔ یہ ڈرامے گوجری ثقافت کی عمارت کے ستون ہیں، جنہوں نے لوک داستانوں کو جدید شکل دی اور سماجی مسائل کو مرحلے پر اتار دیا۔ ان کی پہاڑی کتاب ’’پالتو دور‘‘ اور پنجابی ’’رب دے پیری‘‘جیسی تخلیقات ان کی لسانی وسعت کو ظاہر کرتی ہیں، جو گوجری سے باہر بھی پھیل گئیں۔ ان کی تحریروں نے نہ صرف تفریح دی بلکہ سماجی بیداری کا سیلاب برپا کیا۔
نور صاحب کی زندگی ایک مشعل تھی جو گوجری ادب کو روشن کرتی رہی۔ انہوں نے اپنی ملازمت کے ساتھ ساتھ راتوں کو قلم اٹھایا، اور گوجری کو علمی جرائد، محفلوں اور اسٹیج تک پہنچایا۔ ان کی کاوشوں سے گوجری ڈرامہ اب ایک مضبوط صنف بن چکا ہے، جو قبائلی علاقوں میں لوگوں کو جوڑتا ہے۔ اللہ نے انہیں ڈاکٹر جاوید راہی جیسے بیٹے سے نوازا، جو گوجری کے مستقبل کا ستارہ ہیں اور نور صاحب کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دیں گے۔ ان کی جدائی میں ہم سب یتیم ہو گئے، مگر ان کی میراث ہمیں راستہ دکھاتی رہے گی۔
اللہ بابو نور محمد نور کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے، لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے، اور گوجری کے تمام شائقین، ادیبوں کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ ان کی یاد کو ہمیشہ زندہ رکھیں گے، ان کی تخلیقات کو نئی نسلوں تک پہنچائیں گے۔ آمین۔
