متعلقہ مضامین اور خبریں

مجموعہ مضامین

بابو نور محمد نورؔؔ کی وفات: گوجری ادب کا ناقابلِ تلافی نقصان

اشتیاق احمد مصباحفون نمبر: 7006067644ای میل: misbahishtiaq63@gmail.comادب انسانی احساسات،...

نگروٹہ سینک اسکول کی منصب سپردگی کی تقریب

،NDA میں کامیاب کیڈٹس کے والدین کی عزت افزائی؛جموں...

بابو نور محمد نور کے انتقال پر وزیر جاوید رانا کا اظہارِ تعزیت

گوجری ادب کی عظیم شخصیت کی وفات کو قبائلی...

بابو نور محمد نورؔؔ کی وفات: گوجری ادب کا ناقابلِ تلافی نقصان

اشتیاق احمد مصباح
فون نمبر: 7006067644
ای میل: misbahishtiaq63@gmail.com
ادب انسانی احساسات، تجربات اور مشاہدات کا ایسا آئینہ ہے جس میں معاشرے کی روح جھلکتی ہے۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے تخلیق کار ہے، اور یہی تخلیقی جوہر اسے دیگر مخلوقات سے ممتاز بناتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو کسی نہ کسی خوبی سے نوازا ہے اور ہر فرد کو ایک منفرد ہنر عطا کیا ہے۔ کوئی اپنی جسمانی قوت کی بنا پر پہچانا جاتا ہے، کوئی حسن و جمال کا پیکر ہوتا ہے، کوئی علم و دانش میں یکتا مقام رکھتا ہے اور کوئی کھیل کے میدان میں اپنی مہارت کا لوہا منواتا ہے۔ اسی طرح کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال کرتا ہے، اور وہ اپنی سوچ، جذبات اور مشاہدات کو فن کے مختلف سانچوں میں ڈھال کر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ادب بھی تخلیق کا ایک نہایت اہم اور مؤثر ذریعہ ہے۔ یہ نہ صرف انسانی جذبات کی ترجمانی کرتا ہے بلکہ تہذیب و ثقافت کا امین بھی ہوتا ہے۔ ادب کی دنیا میں مختلف اصناف پائی جاتی ہیں، جیسے شاعری، افسانہ، ناول، ڈرامہ، مضمون نویسی اور انشائیہ وغیرہ۔ ہر صنف کا اپنا ایک مخصوص اسلوب، دائرہ کار اور تقاضے ہوتے ہیں۔ بعض ادیب صرف ایک صنف میں مہارت حاصل کرتے ہیں اور اسی میں اپنی شناخت قائم کرتے ہیں، جبکہ کچھ ہمہ جہت صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں جو بیک وقت کئی اصناف میں اپنی تخلیقی قوت کا اظہار کرتے ہیں۔شاعری کو ادب کی روح کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ مختصر الفاظ میں گہرے مفاہیم اور جذبات کو بیان کرنے کا فن ہے۔ شاعری کی بھی متعدد اقسام ہیں، جیسے غزل، نظم، حمد، نعت، قصیدہ اور مرثیہ وغیرہ۔ ہر صنف کے اپنے اصول اور اسالیب ہوتے ہیں۔ اسی طرح نثر کی دنیا بھی وسیع اور رنگارنگ ہے۔ نثر میں ڈرامہ، مضمون، مقالہ اور انشائیہ جیسی اصناف شامل ہیں۔
گوجری زبان، جو اپنی سادگی، مٹھاس اور ثقافتی ورثے کی نمائندگی کے لیے جانی جاتی ہے، بھی ادب کی دنیا میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔گوجری کو جموں و کشمیر میں مرکزی حیثیت حاصل ہے جبکہ یہ زبان ہندوستان کی دیگر بارہ ریاستوں میں لہجے کے معمولی فرق کے ساتھ بولی جاتی ہے ۔علاوہ ازیں پاکستانی زیر انتظام کشمیر اور پاکستان کے کئی حصوں میں بھی گوجری زبان بولی جاتی ہے ۔یہاں تک کے افغانستان میں بھی گوجری بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے ۔گوجری جدید ہند آریائی زبان ہے جس کے اُردو کے ساتھ گہرے لسانے رشتے ہیں ۔عام پر گوجری ادب کو تین ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔قدیم گوجری ادب ،گوجری لوک ادب اور جدید گوجری ادب۔جدید گوجری ادب کا آغاز بیسویں صدی کے اوائل میں ہوا۔جدید گوجری ادب میں بھی کئی نامور ادیب اور شاعر پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے قلم کے ذریعے نہ صرف زبان کو فروغ دیا بلکہ اپنی ثقافت کو بھی زندہ رکھا۔ گوجری ادب میں ایسے تخلیق کار کم ہی ملتے ہیں جو بیک وقت نظم و نثر دونوں میں یکساں مہارت رکھتے ہوں۔ایسی ہی ایک ہمہ جہت اور باصلاحیت شخصیت بابو نور محمد نورؔ کی ہے، جنہوں نے گوجری ادب میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ وہ نہ صرف ایک اعلیٰ پائے کے شاعر تھے بلکہ ایک عمدہ نثر نگار بھی تھے۔ انہوں نے شاعری کی مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی، جن میں غزل، نظم، حمد اور نعت شامل ہیں۔ ان کی شاعری میں سادگی، خلوص اور گہرائی پائی جاتی ہے، جو قاری کے دل پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ضلع پونچھ کے گاؤں چک کترو کے ایک سادہ اور پُرسکون ماحول میں پیدا ہونے والے بابو نور محمد نورؔ نے اپنی زندگی کو علم و ادب کے لیے وقف کر دیا۔ ان کا تعلق ایک ایسے خطے سے تھا جہاں روایات، ثقافت اور زبان کی اپنی ایک الگ پہچان ہے۔ انہوں نے اپنے علاقے کی ثقافت اور زبان کو اپنی تحریروں کا حصہ بنایا اور اسے وسیع حلقوں تک پہنچایا۔انسانی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ حالات خواہ کیسے ہی کیوں نہ ہوں، اگر ارادہ مضبوط ہو اور حوصلہ بلند ہو تو مشکلات راستہ نہیں روکتیں بلکہ انسان کے عزم کو مزید جِلا بخشتی ہیں۔ تاریخ ایسے بے شمار افراد کی گواہ ہے جنہوں نے تنگ دستی، محرومی اور نامساعد حالات کے باوجود اپنی محنت اور لگن سے کامیابی کی راہیں ہموار کیں۔ انہی باہمت اور باوقار شخصیات میں ایک نمایاں نام بابو نور محمد نورؔ کا بھی ہے، جن کی زندگی جدوجہد، عزم اور خودداری کی ایک روشن مثال ہے۔بابو نور محمد نورؔ کا تعلق گجر قوم کی کھٹانہ گوت سے تھا۔آپ 1942 میں چک کترو میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام چودھری منگا کھٹانہ گجر تھا۔آپ نے چنڈک میں ہی مستقل سکونت اختیار کی ۔سی حرفی کے ایک بند کے ذریعے بابو نور محمد نورؔ اپنا تعارف کچھ اس انداز میں پیش کرتے ہیں:
ی
یاد رکھنو خاکسار نا جی چنڈک خاص مکان مسکین کو ہے
گُجر قوم میری آخر خاک ڈھیری آخر مسلو دو گز زمین کو ہے
ہوے قسمت تے کرے نصیب اللہ مِناں آسرو رب العالمین کو ہے
رحمت رب کولوں نا امید نہیں ہوں نورؔ بیڑو جے پار یقین کو ہے
در اصل گجر قوم برصغیر کے ان قدیم قبائل میں شمار ہوتی ہے جنہوں نے مختلف ادوار میں اپنی شناخت کو برقرار رکھا، مگر بدقسمتی سے جدید تعلیم اور معاشی ترقی کی دوڑ میں کافی عرصے تک پیچھے رہے۔ ایسے میں کھٹانہ گوت میں پیدا ہونے والے بابو نور محمد نورؔ نے نہ صرف اپنی ذات کو سنوارا بلکہ اپنی قوم کے لیے بھی ایک مثال قائم کی۔ان کا بچپن انتہائی غربت میں گزرا۔ وسائل کی کمی، بنیادی سہولیات کا فقدان اور معاشی تنگی ان کے روزمرہ کا حصہ تھے۔ مگر یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو حالات کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے انہیں چیلنج سمجھتے ہیں۔ بابو نور محمد نورؔ نے بھی غربت کو اپنی راہ کی رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ وہ جانتے تھے کہ تعلیم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس کے ذریعے وہ نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتے ہیں بلکہ اپنی قوم کی تقدیر بھی سنوار سکتے ہیں۔
یہ وہ زمانہ تھا جب جموں و کشمیر کے گجروں میں تعلیم کا رجحان نہایت کم تھا۔ شرح خواندگی انتہائی پست تھی اور زیادہ تر لوگ روایتی طرزِ زندگی میں مصروف تھے۔ ایسے حالات میں تعلیم حاصل کرنا کسی چیلنج سے کم نہ تھا۔ مگر اسی دور میں کچھ مخلص اور دوراندیش رہنما گجر قوم کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرمِ عمل تھے۔ ان میں میاں نظام الدین لاروی، چودھری غلام حسین لسانوی اور چودھری دیوان علی کھٹانہ جیسے افراد شامل تھے، جنہوں نے گجروں میں سیاسی، سماجی اور تعلیمی بیداری پیدا کرنے کے لیے ایک ہمہ گیر تحریک شروع کی۔
ان رہنماؤں نے نہ صرف گجر قوم کو ساہوکاروں کے استحصالی نظام سے نجات دلانے کی کوشش کی بلکہ انہیں اس بات کا شعور بھی دیا کہ تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے والدین کو ترغیب دی کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں تاکہ وہ باوقار شہری بن سکیں اور معاشرے میں اپنا مقام حاصل کر سکیں۔ یہ ایک انقلابی پیغام تھا، جس نے آہستہ آہستہ گجر معاشرے میں شعور کی شمع روشن کی۔ایسے ہی بیداری کے ماحول میں بابو نور محمد نورؔ نے اپنی تعلیمی جدوجہد کا آغاز کیا۔ غربت کے باوجود انہوں نے تعلیم کا دامن نہیں چھوڑا۔ یہ بات اس لحاظ سے اور بھی قابلِ تحسین ہے کہ اس وقت گجروں میں تعلیمی شرح پانچ فیصد سے بھی کم تھی۔ ایسے میں دسویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنا ایک بڑی کامیابی تھی۔ انہوں نے نہ صرف اپنے لیے ایک راستہ بنایا بلکہ دوسروں کے لیے بھی امید کی کرن بنے۔ان کے اندر مزید تعلیم حاصل کرنے کی خواہش بھی موجود تھی، مگر حالات ہمیشہ انسان کے تابع نہیں ہوتے۔ معاشی مجبوریوں نے انہیں اس بات پر مجبور کیا کہ وہ عملی زندگی میں قدم رکھیں اور اپنے خاندان کی کفالت کی ذمہ داری سنبھالیں۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں ان کی زندگی نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔
انہوں نے محکمہ مال جموں و کشمیر سے وابستگی اختیار کی، جو اس دور میں ایک معزز اور باوقار پیشہ سمجھا جاتا تھا۔ اس ملازمت نے نہ صرف ان کے معاشی حالات کو بہتر بنایا بلکہ انہیں معاشرے میں ایک پہچان بھی عطا کی۔ چونکہ محکمہ مال میں کلرکی اور دفتری امور انجام دینے والوں کو عرفِ عام میں ’بابو‘کہا جاتا تھا، اس لیے نور محمد کے نام کے ساتھ بھی ’بابو‘کا لاحقہ جڑ گیا، اور یوں چک کترو کے نور محمد، بابو نور محمد کے نام سے مشہور ہو گئے۔
بابو نور محمد نورؔؔ کی ادبی زندگی کا آغاز محض ایک صنف تک محدود نہ تھا بلکہ نہوں نے جملہ اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی اور حمد، نعت، غزل، گیت، سی حرفی اور نظم جیسی متنوع شعری صورتوں میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ ابتدائی دور میں ان کی شاعری میں سنجیدگی، روحانیت اور روایتی شعری حسن نمایاں تھا، مگر ان کے باطن میں ایک ایسا مزاح نگار بھی موجود تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ اپنی پہچان بنانے لگا۔ یہ مزاح محض ہنسی تک محدود نہ تھا بلکہ اس میں معاشرتی شعور، تنقیدی بصیرت اور اصلاحی پہلو بھی شامل تھے۔ رفتہ رفتہ ان کی تحریروں میں طنز و مزاح کا رنگ گہرا ہوتا گیا اور بالآخر یہی عنصر ان کی ادبی شناخت بن گیا۔ انہوں نے معاشرے کی ناہمواریوں، انسانی کمزوریوں اور سماجی تضادات کو نہایت لطیف اور شگفتہ انداز میں پیش کیا، جس سے قاری نہ صرف محظوظ ہوتا بلکہ سوچنے پر بھی مجبور ہو جاتا۔ ان کے اسلوب میں سادگی کے ساتھ ایک چبھتا ہوا طنز بھی شامل ہوتا تھا، جو دل پر اثر چھوڑتا تھا۔ ان کے معاصرین میں نزیر احمد نذیر کالا کوٹی کا نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہے، جو گوجری شاعری میں طنز و مزاح کے میدان میں ایک بلند مقام رکھتے تھے۔ نذیر کالا کوٹی عمر میں بابو نور محمد نورؔ سے تقریباً دس سال بڑے تھے اور انہوں نے بھی گوجری ادب کو بہترین مزاحیہ تخلیقات سے مالا مال کیا۔ ان دونوں ادیبوں نے اپنے اپنے انداز میں گوجری زبان میں طنز و مزاح کی روایت کو مضبوط کیا اور اسے ایک نئی جہت عطا کی۔ تاہم بابو نور محمد نورؔ کی انفرادیت یہ تھی کہ انہوں نے نہ صرف مزاحیہ شاعری میں بلکہ اپنی نظموں میں بھی طنز و مزاح کا ایسا حسین امتزاج پیدا کیا جو ان کی پہچان بن گیا۔ ان کی نظموں میں بظاہر سادہ اور دلنشین انداز میں پیش کیے گئے اشعار دراصل گہرے سماجی پیغامات کے حامل ہوتے تھے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ بابو نور محمد نورؔ نے گوجری ادب میں طنز و مزاح کو نہ صرف فروغ دیا بلکہ اسے ایک بامقصد اور مؤثر اظہار کا ذریعہ بھی بنایا، جو آج بھی ان کی ادبی عظمت کی دلیل ہے۔
یہ ایک دلچسپ اور معنی خیز ادبی حقیقت ہے کہ جدید گوجری ادب کے ابتدائی شعرا نے اپنی تخلیقی زندگی کا آغاز پنجابی زبان سے کیا اور بعد ازاں گوجری کی طرف رجوع کیا۔ اس رجحان کے پیچھے سماجی، لسانی اور ثقافتی عوامل کارفرما تھے، کیونکہ پنجابی اس خطے میں ایک مضبوط ادبی روایت رکھتی تھی اور اظہارِ خیال کے لیے ایک وسیع پلیٹ فارم فراہم کرتی تھی۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ شعرا نے اپنی مادری زبان گوجری کی اہمیت کو محسوس کیا اور اس میں تخلیق کو ترجیح دی، جس سے گوجری ادب کو فروغ ملا۔بابو نور محمد نورؔ کا معاملہ اس حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اگرچہ وہ جدید گوجری کے ابتدائی شعرا کی نسل سے تعلق نہیں رکھتے، اور ان کے شعور کی بیداری کے وقت تک جموں و کشمیر کے دونوں اطراف گوجری شاعری ایک مستحکم حیثیت اختیار کر چکی تھی، اس کے باوجود انہوں نے اپنی شعری زندگی کا آغاز پنجابی زبان میں کیا۔ پنجابی اور پہاڑی زبان میں بھی بابو نور محمد نورؔؔ نے اپنی شعری صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بہترین ادب تخلیق کیا ۔تاہم بابو نور محمد نورؔؔ کی ادبی سمت کا تعین ایک اہم شخصیت، چودھری نسیم پونچھی، کی رہنمائی سے ہوا۔ چودھری نسیم پونچھی نہ صرف ایک منجھے ہوئے گوجری شاعر اور ادیب تھے بلکہ انہوں نے کلچرل اکیڈمی سے وابستہ ہو کر گوجری زبان و ادب کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی صحبت اور مشورے نے نور صاحب کی ادبی سوچ پر گہرا اثر ڈالا، اور انہی کے کہنے پر بابو نور محمد نورؔؔ نے گوجری زبان میں تخلیق کا آغاز کیا۔ایسا نہیں کہ بابو نور محمد نورؔؔ نے اس کے بعد پنجابی اور پہاڑی میں لکھنا ترک کردیا بلکہ تینوں زبانوں میں مسلسل لکھتے رہے۔اس مضمون میں راقم الحروف کی جانب سے بابو نور محمد نورؔؔ کی گوجری شاعری اور نثر نگاری کا احاطہ کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔
بابو نور محمد نورؔؔ کی ادبی شخصیت کا ایک نہایت نمایاں اور دلکش پہلو ان کی مزاحیہ نظم نگاری ہے، جس میں طنز و مزاح کے ساتھ ساتھ اصلاحِ معاشرہ کا جذبہ بھی پوری شدت کے ساتھ کارفرما نظر آتا ہے۔ انہوں نے زیادہ تر ایسی نظمیں لکھیں جن میں بظاہر ہنسی مذاق کا رنگ غالب دکھائی دیتا ہے، مگر ان کے اندر چھپا ہوا مقصدی اور اصلاحی پیغام قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ان کی شاعری محض تفریح طبع کا ذریعہ نہیں تھی بلکہ وہ اپنے معاشرے کے رویوں، رسم و رواج اور سماجی کمزوریوں کو ہدفِ تنقید بنا کر ایک بیداری پیدا کرنا چاہتے تھے۔ ان کی مشہور نظموں میں ’’دو بیاہ‘‘، ’’شیر تے کتو‘‘ اور ’’لاڈلو پوت‘‘خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں، جنہوں نے عوام میں بے حد مقبولیت حاصل کی۔
نظم ’’دو بیاہ‘‘میں انہوں نے ازدواجی زندگی اور اس سے جڑے ہوئے سماجی مسائل کو نہایت طنزیہ انداز میں پیش کیا ہے، جہاں ایک طرف مزاح کی چاشنی قاری کو مسکرانے پر مجبور کرتی ہے تو دوسری طرف اس کے اندر چھپا ہوا سماجی پیغام غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اسی طرح ’’شیر تے کتو‘‘ ایک علامتی نظم ہے جس میں طاقت اور کمزوری، ظلم اور مظلومیت، اور معاشرتی عدم توازن کو نہایت سادہ مگر بلیغ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اس نظم میں جانوروں کی علامت کے ذریعے انسانی رویوں پر گہرا طنز کیا گیا ہے، جو ان کی فکری گہرائی اور تخلیقی مہارت کا واضح ثبوت ہے۔ ’’لاڈلو پوت‘‘میں انہوں نے گھریلو اور خاندانی نظام میں پیدا ہونے والی بگاڑ اور حد سے زیادہ لاڈ پیار کے منفی اثرات کو مزاحیہ انداز میں پیش کیا ہے، جہاں ایک طرف قہقہے جنم لیتے ہیں تو دوسری طرف ایک اصلاحی سوچ بھی ابھرتی ہے۔
بابو نور محمد نورؔؔ کی ان نظموں کی خاص بات یہ ہے کہ وہ طنز کو محض تنقید کے لیے استعمال نہیں کرتے بلکہ اسے ایک تعمیری قوت میں بدل دیتے ہیں۔ ان کے ہاں مزاح محض ہنسانے کا ذریعہ نہیں بلکہ سماجی اصلاح کا ایک مؤثر وسیلہ ہے۔ وہ اپنی شاعری کے ذریعے معاشرے کے اندر پائی جانے والی خامیوں، غیر متوازن رویوں اور اخلاقی کمزوریوں کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ قاری نہ تو بیزار ہوتا ہے اور نہ ہی بدظن، بلکہ وہ ایک نرم اور خوشگوار انداز میں حقیقت کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ یہی ان کی شاعری کی اصل خوبی اور ان کی ادبی عظمت کی پہچان ہے کہ انہوں نے مزاح کو اصلاح کے ساتھ اس طرح ہم آہنگ کیا کہ دونوں ایک دوسرے کا حصہ بن گئے۔
بابو نور محمد نورؔؔ کی نظم ’’دو بیاہ‘‘ان کی مزاحیہ شاعری کا ایک ایسا شاہکار ہے جس میں انہوں نے نہایت سادہ، رواں اور طنزیہ اسلوب میں ایک سماجی حقیقت کو بڑے مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ اس نظم کا مرکزی خیال کثرتِ ازدواج کے ان منفی اثرات پر مبنی ہے جو ایک فرد کی ذاتی زندگی، خاندانی نظام اور بچوں کی پرورش پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ نور محمد نورؔؔ اس نظم میں ایک خود کلامی کے انداز میں اپنی کہانی بیان کرتے ہیں، جہاں ابتدا میں وہ بتاتے ہیں کہ ان کے بالغ ہوتے ہی ان کے والد نے ان کی شادی ایک خوبصورت، بااخلاق اور وفا شعار خاتون سے کر دی، جو ہر اعتبار سے ایک مثالی بیوی ثابت ہوتی ہے۔ تاہم، اسی مقام پر انسانی نفسیات کی کمزوری اور غیر ضروری خواہشات کا پہلو سامنے آتا ہے، جہاں شاعر اپنے کردار کے ذریعے یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح ایک شخص کے اندر غیر ضروری دوسری شادی کا خیال پیدا ہوتا ہے۔
اس فیصلے کے بعد زندگی کا توازن بگڑ جاتا ہے اور نظم کا مزاحیہ مگر تلخ پہلو نمایاں ہونے لگتا ہے۔ شاعر بیان کرتا ہے کہ وہ دو گھروں اور دو بیویوں کے درمیان بٹ کر رہ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں مسلسل جھگڑے، بداعتمادی اور گھریلو فساد جنم لیتے ہیں۔ اس کشمکش میں اس کی زندگی سکون کے بجائے ایک مسلسل الجھن اور پریشانی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ بابو نور محمد نورؔؔ نہایت ہنر مندی سے اس صورتِ حال کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ قاری ایک طرف اس صورتحال پر مسکراتا ہے، مگر دوسری طرف اس کے اندر ایک سنجیدہ احساس بھی پیدا ہوتا ہے کہ غیر ذمہ دارانہ فیصلے کس طرح پورے خاندان کو متاثر کرتے ہیں۔نظم کے آخری حصے میں یہ پہلو مزید شدت اختیار کر لیتا ہے کہ اس مسلسل کشمکش اور بدانتظامی کے دوران سات سے آٹھ بچے بھی پیدا ہو جاتے ہیں، مگر ان کی تعلیم و تربیت کا کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں ہو پاتا۔ اس نکتے کے ذریعے شاعر معاشرتی ذمہ داری اور اولاد کی پرورش کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ وہ یہ واضح کرتے ہیں کہ وقتی جذبات اور غیر سوچے سمجھے فیصلے نہ صرف فرد کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بھی تاریک کر دیتے ہیں۔نظم دو بیاہ کے چند بند ملاحظہ فرمائیں:
جاں میں اپنی سرت سمہالی جو بن حسن جوانی پالی
باپ نے تو گھر بسا کوئے نہ کریو دو بیاہ
سوہنی صورت سیرت آلی متھا اُپر چمکے لالی
دتی منِاں بوہٹی لیا کوئے نہ کریو دو بیاہ
دماغ میرا ماتھ آیو فتور ہور رکھی اک دیسی حُور
رہیو ہوش حواس بُھلا کوئے نہ کریو دو بیاہ
چُلہا بنیا گھر مانھ دو بل پئی دوپاسے لو
رہیو نہ کجھ شرم حیا کوئے نہ کریو دو بیاہ
دو پاساں کو ہوں مہمان دیکھو میری کتنی شان
منجی راہ ماتھ دتی ڈاہ کوئے نہ کریو دو بیاہ
اک کولوں میں منگیوپانی دوجی اندر گئی نمانی
وتو اس نے زہر گھلا کوئے نہ کریو دو بیاہ
اک ڈیرا کا بچا چار دو پڑھیں دور ہیں بیمار
تھک گیو ہوں دوا لیا کوئے نہ کریو دو بیاہ
چار دوجی کا ہو یا اٹھ سون نہیں دیتا رات چوپٹ
تھپکی دے دے دیوںسلا کوئے نہ کریو دو بیاہ
ہوتا دو سکول چلا تو ایم اے پی ایچ ڈی کرا تو
اٹھاں نا کہ سکوں پڑھا کوئے نہ کریو دو بیاہ
نور محمد نورؔؔ نے گوجری شاعری میں فنی تنوع اور اسلوبیاتی جدت کو بھرپور انداز میں برتا ہے۔ انہوں نے مختلف شعری ہیتوں میں نظمیں تخلیق کیں، جن میں مسدس کی ہیئت کو خاص اہمیت حاصل ہے، جو ان کے فنی شعور اور کلاسیکی روایت سے وابستگی کی عکاس ہے۔ مسدس جیسی مربوط اور منظم ہیئت میں اظہار کرنا ان کی شعری مہارت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ نور محمد نورؔؔ نے گوجری نظم میں مکالماتی انداز کو بھی کامیابی سے اپنایا، جس کے ذریعے انہوں نے اپنے موضوعات کو زیادہ جاندار اور اثر انگیز بنایا۔ مکالماتی طرزِ بیان نے ان کی نظموں میں ڈرامائیت اور فکری گہرائی پیدا کی، اور اسی بدولت انہوں نے گوجری ادب کی اس صنف کو نہ صرف وسعت دی بلکہ اس کی خوب آبیاری بھی کی۔
بابو نور محمد نورؔؔ کی مکالماتی نظموں میں “موٹھی دال” ایک نہایت مؤثر اور جاندار تخلیق کے طور پر سامنے آتی ہے، جس میں دیہی اور شہری زندگی کے درمیان موجود تضادات کو مکالمے کی صورت میں بڑی خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔ اس نظم میں ایک گاؤں کے سادہ مگر خوددار گجر اور ایک شہر کے چالاک بزنس مین کے درمیان گفتگو دکھائی گئی ہے، جو محض الفاظ کا تبادلہ نہیں بلکہ دو مختلف ذہنیتوں اور طرزِ حیات کی نمائندگی کرتی ہے۔ گاؤں کا گجر جب شہر آکر تاجر سے مخاطب ہوتا ہے تو اس کے لہجے میں حق گوئی، سادگی اور ایک طرح کی تنبیہ موجود ہوتی ہے؛ وہ اسے خبردار کرتا ہے کہ لوگوں کا حق نہ کھائے، ورنہ وہ انصاف کے حصول کے لیے کوٹ کچہری تک جانے سے بھی نہیں گھبرائے گا۔ اس کے الفاظ میں دیہی غیرت اور خود اعتمادی جھلکتی ہے، اور جب وہ کہتا ہے کہ وہ گاؤں سے دیسی راجماش ساتھ لایا ہے تو اس میں ایک علامتی پہلو بھی پوشیدہ ہے جو اس کی سادگی، محنت اور خالص پن کی نمائندگی کرتا ہے۔
دوسری جانب بزنس مین کا جواب ایک مختلف زاویہ پیش کرتا ہے، جہاں وہ نسبتاً نرم لہجے میں گجر کو مخاطب کرتے ہوئے ایک اہم سماجی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگرچہ گجر برادری محنت کر کے کماتی ہے اور دوسرے لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اس کے باوجود انہیں پسماندہ سمجھا جاتا ہے۔ اس مکالمے کے ذریعے شاعر نے سماجی ناانصافی اور طبقاتی فرق کو اجاگر کیا ہے۔ بزنس مین کا یہ مشورہ کہ اپنے بچوں کو تعلیم سے آراستہ کیا جائے، دراصل نظم کا مرکزی پیغام بن کر ابھرتا ہے، جو ترقی اور شعور کی راہ دکھاتا ہے۔ اس طرح “موٹھی دال” نہ صرف ایک سادہ مکالمہ ہے بلکہ ایک گہرا سماجی اور فکری بیانیہ بھی ہے، جس میں نور محمد نورؔؔ نے مکالماتی انداز کو استعمال کرتے ہوئے معاشرتی مسائل، شعور کی ضرورت اور طبقاتی کشمکش کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔اس نظم کے چند بند ملاحظہ فرمائیں:
گرائیں
اک گرائیں آیو بازار شاہ نا کہیو حق نہ مار
بھانویں شاہ توں بڑو پرانو تھانو کورٹ ہوں وی جانوں
دیسی موٹھی میرے کول میرے نال توں کرے مخول
شاہ
میری گل سُن رے بھائی اس گل مانھ شک نہیں رائی
کماویں تَم تے دنیا کھے فر وی تَمناں پچھڑا کہے
گل میری تَم ذہن مانھ پاؤ بچاں نا سکول پڑھاؤ
گرائیں
پڑھ گئی جے مھاری اولاد فر لئیو تَم جیبھ کو سواد
سب کُجھ ڈُبلی کیٹ ہوے گو دیسی نہ آملیٹ ہوے گو
اصلی بدلے نقلی مال شاہ جی لے لیو موٹھی دال
شاہ
یاہ موٹھی ہے بڑی پرانی اس نا کھے تھی میری نانی
باپ دادا وی کھاتا رہیا اپنو وقت ٹپاتا رہیا
اس بپار مانھ تَم نہ آؤ بچاں نا سکول پڑھاؤ
بابو نور محمد نورؔؔ نے گوجری ادب میں جہاں نظم کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں، وہیں انہوں نے گیت نگاری میں بھی غیر معمولی مہارت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے بڑی تعداد میں گوجری گیت تخلیق کیے، جو اپنے سادہ مگر دلنشین اسلوب، مقامی رنگ اور عوامی جذبات کی عکاسی کے باعث خاصے مقبول ہوئے۔ ان کے گیتوں کو نامور فنکاروں نے اپنی آواز دی، جن میں ماسٹر کرتار چند سرِ فہرست ہیں، جنہوں نے اپنی گائیکی کے ذریعے ان گیتوں کو عوام کے دلوں تک پہنچایا۔ نور صاحب کے گیت صرف ادبی حیثیت ہی نہیں رکھتے بلکہ موسیقی کے ساتھ جڑ کر ایک زندہ روایت کا حصہ بن گئے ہیں۔گیتوں کے علاوہ بابو نور محمد نورؔؔ نے دو ایسے گانے بھی تحریر کیے جو آل انڈیا ریڈیو جموں، آل انڈیا ریڈیو سرینگر اور آل انڈیا ریڈیو پونچھ کے اسٹوڈیوز میں باقاعدہ ریکارڈ کیے گئے۔ یہ گانے وقت گزرنے کے باوجود اپنی مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہیں اور آج بھی گوجری پروگراموں میں باقاعدگی سے نشر ہوتے ہیں۔ سامعین کی جانب سے فون اِن پروگراموں میں ان گیتوں کی بار بار فرمائش اس بات کا ثبوت ہے کہ نور صاحب کی تخلیقات نے عوامی سطح پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔ یوں ان کی گیت نگاری نہ صرف ان کی فنی بصیرت کی آئینہ دار ہے بلکہ گوجری زبان و ثقافت کے فروغ میں بھی ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔
بابو نور محمد نورؔؔ کا ایک نہایت دل چسپ اور عوامی رنگ لیے دوگانہ خاصی شہرت حاصل کر چکا ہے، جس میں ادھیڑ عمر میاں بیوی کے درمیان مکالمہ پیش کیا گیا ہے۔ اس دوگانے میں بیوی کے دل میں سیکھنے کی خواہش کو بڑی سادگی اور اثر انگیزی سے بیان کیا گیا ہے؛ وہ اپنے شوہر سے کہتی ہے کہ اسے اُردو کا قاعدہ لا کر دے کیونکہ اسے پڑھنے لکھنے کا شوق ہے۔ اس کے برعکس خاوند روایتی سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے عمر کا طعنہ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اب وہ بوڑھی ہو چکی ہے، اگر اسکول جائے گی تو لوگ اس کا مذاق اڑائیں گے اور “بوڑھی گھوڑی لال لگام” جیسے جملے کہیں گے۔ اس مکالمے کے ذریعے نور صاحب نے نہ صرف دیہی معاشرے کی ایک جیتی جاگتی تصویر پیش کی ہے بلکہ عورتوں کی تعلیم کے حوالے سے موجود تنگ نظری اور سماجی رویوں کو بھی اجاگر کیا ہے۔ یہ دوگانہ بظاہر مزاحیہ انداز رکھتا ہے، مگر اس کے پس منظر میں ایک سنجیدہ پیغام پوشیدہ ہے کہ علم حاصل کرنے کی خواہش عمر کی پابند نہیں ہونی چاہیے، اور معاشرے کو اس حوالے سے اپنے رویے بدلنے کی ضرورت ہے۔بابو نور محمد نورؔؔ نے اس دوگانے کے ذریعے بھی اپنے معاشرے کی اصلاح کرنے کی کوشش کی ہے۔دو گانے کے کچھ بول اس انداز میں لکھے گئے ہیں:
اردو قاعدو لیا اڑیا مِناں پڑھن کی آئی ہے شوق رے
بُڈھی ہوکے پڑھن لگی ہسیں گا تِناں لوک رے

میرے نال کی سنگن سہیلیں نوکری اُپر جائیں
ٹیری کاٹ بلسٹر لائیں من پسند کو کھائیں
قدم قدم ور وے مِناں ہُن دین لگی ہیں ٹوک رے
اردو قاعدو لیا اڑیا مِناں پڑھن کی آئی ہے شوق رے

نوکری ملی جے تِناں مہری کون جنجال سنبھالے
نِکا بچہ گھر مانھ لُگا کون انھاں نا پالے
برہیا ہم نے جانو اڑیا گرجن آلی ڈھوک رے
بُڈھی ہوکے پڑھن لگی ہسیں گا تِناں لوک رے
جب اٹل بہاری واجپائی ہندوستان کے وزیر اعظم تھے اور مفتی محمد سعید نے جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ کا منصب سنبھالا، تو اس دور میں ہندوستان اور پاکستان کے دو طرفہ تعلقات میں ایک نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔ اسی فضا میں اعتماد سازی کے اقدامات کے تحت سرحد کے آرپار روابط کو بحال کرنے کی کوششیں کی گئیں، جن میں ایک اہم قدم جموں و کشمیر اور پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر کے درمیان بس سروس کا آغاز تھا۔ خصوصاً پونچھ سے راولاکوٹ تک بس سروس نے برسوں سے بچھڑے خاندانوں کو دوبارہ ملنے کا موقع فراہم کیا، اور کنٹرول لائن کے دونوں اطراف کے لوگوں کے لیے یہ ایک جذباتی اور تاریخی پیش رفت ثابت ہوئی۔
اسی خوشگوار اور جذباتی ماحول سے متاثر ہو کر بابو نور محمد نورؔؔ نے ایک خوبصورت گیت تخلیق کیا، جس میں بچھڑے رشتوں کی بحالی، سرحدی فاصلے کے کم ہونے اور انسانی جذبات کی ترجمانی کی گئی۔ اس گیت کو نامور گلوکار ماسٹر کرتار چند نے اپنی دلکش آواز میں پیش کیا، جس کے بعد یہ گیت ریڈیو سے نشر ہونا شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے سرحد کے دونوں طرف بے حد مقبول ہو گیا۔ اس گیت کی خاص بات یہ ہے کہ یہ نہ صرف ایک ادبی و موسیقی تخلیق ہے بلکہ ایک عہد کی یادگار بھی ہے، جو امن، محبت اور انسانی رشتوں کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ آج بھی مختلف ریڈیو پروگراموں میں اس گیت کی بار بار فرمائش کی جاتی ہے، جو اس کی دیرپا مقبولیت اور عوامی پذیرائی کا واضح ثبوت ہے۔گیت کے بول:
گڈی آئی راولا کوٹ کی ہوں جاؤں گو
اُت بسیں رشتے دار مل کے آؤں گو
اُت بسّے میرو ماموںبھائی بلیو تے تایو گاموں
نالے انھاں کا گیرا چا سینے لاؤں گو
اُت بسیں رشتے دار مل کے آؤں گو
بابو نور محمد نورؔؔ کی نظموں میں ایک اور نہایت مقبول اور سبق آموز نظم ملتی ہے جس میں ’’علیا‘‘اور ’’بلیا‘‘نامی دو بھائیوں کی کہانی بیان کی گئی ہے، جو دراصل علی محمد اور ولی محمد کے عرفی نام ہیں۔ اس نظم میں شاعر نے دیہی معاشرت کی ایک عام مگر نہایت حساس صورتِ حال کو بڑی سادگی اور اثر انگیزی سے پیش کیا ہے۔ ابتدا میں دونوں بھائی آپس میں بے حد محبت اور اتفاق سے رہتے ہیں، مگر گھریلو سطح پر پیدا ہونے والی غلط فہمیوں نے اس مضبوط رشتے کو کمزور کر دیا۔ ایک بھائی کی بیوی دوسرے کی بیوی کے بارے میں غلط باتیں پھیلا کر بدگمانیوں کو جنم دیتی ہے، جس کے نتیجے میں دونوں بھائیوں کے درمیان تلخی بڑھتی جاتی ہے اور بات جھگڑے تک جا پہنچتی ہے۔
صورتِ حال اس وقت مزید بگڑ جاتی ہے جب گاؤں کے بااثر افراد، یعنی نمبردار اور سرپنچ، صلح کروانے کے بجائے معاملے کو مزید ہوا دیتے ہیں اور یوں ’’جلتی پر تیل ڈالنے‘‘کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی غیر ذمہ دارانہ مداخلت کے باعث یہ گھریلو تنازعہ عدالت تک جا پہنچتا ہے، جہاں رشتوں کی نزاکت قانونی پیچیدگیوں میں الجھ کر رہ جاتی ہے۔ اس نظم کے ذریعے بابو نور محمد نورؔؔ نے نہ صرف خاندانی نظام میں باہمی اعتماد کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے بلکہ یہ بھی دکھایا ہے کہ کس طرح غلط بیانی، بدگمانی اور غیر مخلص مشورے مضبوط رشتوں کو تباہ کر سکتے ہیں۔ نظم کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ انسان کو دوسروں کی باتوں میں آ کر اپنے قریبی رشتوں کو خراب نہیں کرنا چاہیے بلکہ صبر، سمجھداری اور باہمی اعتماد کے ذریعے اختلافات کو حل کرنا چاہیے تاکہ معاشرتی ہم آہنگی برقرار رہ سکے۔اس نظم کے چند اشعار دیکھیے:
علیو بلیو تھا دو بھائی ہوے تھی دوہاں مانھ خوب لڑائی
جھگڑو تھو اک بَنّہ کو سب قصور تھو رَنّاں کو
اک دن علیو جد گھر آیو گھر آلی نے خوب تپایو
اج کپوں تھی ہوں ہتھوائی رتّی مھیس تھی بنّے لائی
بھرجائی تیری نے مناں دیکھ اج بنایو ڈاہڈو بیکھ
مناں دیکھ گھروں واہ دوڑی میری گردن آن مروڑی
مھیس کا کیا گٹا لال میرو جینو کیو محال
میری اِت ہُن نہیں کھلہیر میرو دشمن تیرو بیر
بھرجائی تیری بڑی مکار میرے واسطے روز کی مار
چارو حیلو بہلو کر نہیں تے اندر بڑھ کے مر
نمبردار مھارو گمانڈی باہنڈی نال ملی ہے باہنڈی
بہلو جا کے سد لیا سارو قصو کھول سنا
بابو نور محمد نورؔؔ کی شخصیت میں صوفیانہ فکر اور روحانی وابستگی نمایاں حیثیت رکھتی تھی، اور یہی عنصر ان کی شاعری میں بھی جھلکتا ہے۔ وہ تصوف کے اصولوں پر گہرا یقین رکھتے تھے اور خاص طور پر سائیں میراں رحمت اللہ علیہ سے انہیں قلبی عقیدت تھی، جس کا اثر ان کے کلام میں روحانیت، محبت اور انسان دوستی کی صورت میں نمایاں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ بابا جی صاحب لاروی نقشبندی کے دربار سے بھی گہرے طور پر وابستہ رہے، جو نہ صرف ایک روحانی مرکز تھا بلکہ ادبی سرگرمیوں کا بھی ایک اہم گہوارہ سمجھا جاتا ہے۔ اس دربار کی ایک خاص انفرادیت ’’دبستانِ لار‘‘ہے، جس کے ساتھ سینکڑوں شعراء ماضی میں بھی وابستہ رہے اور آج بھی اس روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
اسی سلسلے کے ایک اہم ستون میاں نظام الدین لاروی تھے، جو خود گوجری اور پنجابی کے بلند پایہ شاعر تھے اور جن کی ادبی و روحانی خدمات نے اس دبستان کو مزید وقار بخشا۔ بابو نور محمد نورؔؔ کی اس دربار سے وابستگی محض عقیدت تک محدود نہیں تھی بلکہ انہوں نے یہاں سے فکری اور ادبی رہنمائی بھی حاصل کی۔ یوں ان کی شاعری میں جہاں ایک طرف تصوف کی گہرائی نظر آتی ہے، وہیں دوسری طرف ادبی پختگی اور روایت سے جڑاؤ بھی واضح ہوتا ہے، جو ان کے اس روحانی و ادبی مرکز سے تعلق کا براہِ راست نتیجہ ہے۔اس حوالے سے ان کا ایک شعر :
پیراں فقیراں کا ہم خیر خواہ منجی پیراں نا دیاں ہم ڈاہ
بابو نور محمد نورؔؔ نے جن شخصیات سے عقیدت اور قلبی وابستگی رکھی، ان کی وفات پر گوجری زبان میں مرثیے لکھ کر نہایت مؤثر انداز میں خراجِ عقیدت پیش کیا، جس سے ان کی شخصیت کا حساس اور وفادار پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ انہوں نے مرثیہ گوئی جیسے سنجیدہ اور جذباتی صنف میں بھی کامیاب طبع آزمائی کی اور اپنے کلام کے ذریعے نہ صرف مرحومین کی خدمات کو سراہا بلکہ ان کے اوصاف و کردار کو بھی زندہ رکھا۔ جن ممتاز شخصیات پر انہوں نے مرثیے تحریر کیے، ان میں سائیں میراں، چودھری غلام حسین لسانوی، چودھری دھکڑ، چودھری محمد اسلم، چودھری محمد شفیع اور چودھری فیض احمد شامل ہیں۔ ان مرثیوں کے ذریعے نور صاحب نے نہ صرف اپنے ذاتی غم اور عقیدت کا اظہار کیا بلکہ گوجری ادب میں مرثیہ نگاری کی روایت کو بھی مضبوط کیا، جو ان کی ادبی ہمہ جہتی کا ایک اہم ثبوت ہے۔
بابو نور محمد نورؔؔ نے جہاں شاعری کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، وہیں انہوں نے گوجری زبان میں ڈرامہ نگاری کے شعبے میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں اور اپنی تخلیقات کے ذریعے عوامی سطح پر بھرپور پذیرائی حاصل کی۔ ان کے ڈراموں میں معاشرتی مسائل، اخلاقی اقدار اور اصلاحی پہلو نمایاں طور پر دکھائی دیتے ہیں، جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ادب کو محض تفریح نہیں بلکہ سماجی اصلاح کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ ان کے مشہور ڈراموں میں ’’تحصیلدار کی عدالت‘‘، ’’نکی عمر کو بیاہ‘‘، ’’نصیباں کی ہار‘‘، ’’استاد‘‘، ’’بڈھا کو بیاہ‘‘اور ’’پڑھائی‘‘خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں، جن میں انہوں نے دیہی زندگی، جہالت، کم عمری کی شادی، تعلیم کی اہمیت اور سماجی ناانصافی جیسے موضوعات کو مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔
ان ڈراموں کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان میں سے کئی ڈرامے ابھینو تھیٹر اور ٹیگور ہال جیسے معروف اسٹیجوں پر پیش کیے جا چکے ہیں، جہاں انہیں شائقین کی جانب سے خوب سراہا گیا۔ اس کے علاوہ ان کے متعدد ڈرامے آل انڈیا ریڈیو جموں، آل انڈیا ریڈیو سرینگر اور آل انڈیا ریڈیو پونچھ کے اسٹوڈیوز میں ریکارڈ بھی کیے گئے، جو آج بھی وقتاً فوقتاً نشر ہوتے رہتے ہیں۔ یوں بابو نور محمد نورؔؔ کی ڈرامہ نگاری نہ صرف ادبی اعتبار سے اہم ہے بلکہ اس نے گوجری زبان کو عوامی سطح پر فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
بابو نور محمد نورؔؔ کی ادبی خدمات کا دائرہ صرف شاعری اور ڈرامہ نگاری تک محدود نہیں بلکہ وہ تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کی متعدد کتابیں مختلف زبانوں میں منظرِ عام پر آ چکی ہیں، جبکہ کچھ دیگر کتب ابھی طباعت کے مراحل میں ہیں، جو ان کے مسلسل تخلیقی سفر کی علامت ہیں۔ شائع شدہ کتابوں میں پنجابی زبان میں ’’وفات نامہ سائیں میراں‘‘اور ’’رب دے پیارے‘‘شامل ہیں، جو ان کے صوفیانہ رجحان اور روحانی وابستگی کی عکاسی کرتی ہیں۔ اسی طرح پہاڑی زبان میں ’’نویں سوچ‘‘ ان کی فکری وسعت اور جدید اندازِ فکر کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ گوجری زبان میں ’’بدلتو دور‘‘اور بچوں کے لیے لکھی گئی نظمیں ’’پھلواڑی‘‘ان کی زبان و ادب سے گہری وابستگی اور نئی نسل کی تربیت کے جذبے کی ترجمانی کرتی ہیں۔
خصوصاً گوجری کتاب ’’بدلتو دور‘‘کو ادبی حلقوں میں خاص پذیرائی حاصل ہوئی اور اسے 2007/2008 میں جموں و کشمیر اکیڈمی برائے آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز کی جانب سے بہترین کتاب کے ایوارڈ سے نوازا گیا، جو ان کی ادبی خدمات کا ایک بڑا اعتراف ہے۔ بابو نور محمد نورؔؔ کی یہ تصانیف نہ صرف مختلف زبانوں کے ادبی ذخیرے میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ ان کی فکری، اصلاحی اور ثقافتی سوچ کی بھی بھرپور نمائندگی کرتی ہیں، جس سے وہ ایک ہمہ جہت ادیب کے طور پر سامنے آتے ہیں۔
بابو نور محمد نورؔؔ کی ادبی و فنی زندگی میں آل انڈیا ریڈیو کے ساتھ وابستگی کو ایک اہم اور نمایاں مقام حاصل رہا ہے۔ وہ مسلسل آل انڈیا ریڈیو جموں، آل انڈیا ریڈیو سرینگر اور آل انڈیا ریڈیو پونچھ کے پروگراموں میں بطور شاعر، انشائیہ نگار اور ٹاکر شرکت کرتے رہے، جہاں ان کی تخلیقات کو نہ صرف نشر کیا گیا بلکہ سامعین کی جانب سے بھی بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی۔ خاص طور پر آل انڈیا ریڈیو پونچھ کے سلسلہ وار پروگراموں میں ان کی پیش کردہ تخلیقات نے ایک منفرد شناخت قائم کی، جن میں طنز و مزاح کا دلکش امتزاج سامعین کو اپنی طرف کھینچنے کا باعث بنتا تھا۔ ان کا اسلوب سادہ مگر پراثر تھا، جس میں روزمرہ زندگی کے تجربات کو مزاحیہ اور سبق آموز انداز میں پیش کیا جاتا تھا، اور یہی وجہ تھی کہ ان کے پروگرام سننے والوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتے تھے۔
ان کے مشہور سلسلہ وار عنوانات میں ’’جد ہوں پہلی بار سرہیج گیو‘‘، ’’جد ہوں پہلی بار شہر گیو‘‘، ’’جد ہوں پہلی بار بازار گیو‘‘ اور ’’جد ہوں پہلی بار دعوت ور گیو‘‘شامل ہیں، جن میں انہوں نے دیہی انسان کے شہری تجربات کو مزاحیہ انداز میں بیان کیا۔ یہ تخلیقات نہ صرف تفریح کا ذریعہ تھیں بلکہ ان میں معاشرتی مشاہدات اور انسانی رویوں پر گہرا طنز بھی موجود تھا۔ یوں بابو نور محمد نورؔؔ نے ریڈیو کے ذریعے گوجری ادب کو ایک وسیع سامعین تک پہنچایا اور اپنی منفرد طرزِ اظہار سے سامعین کے دلوں میں ایک خاص مقام بنایا۔
بابو نور محمد نورؔؔ کی ادبی زندگی ایک مسلسل سفر کی صورت میں نظر آتی ہے جس میں انہوں نے عمر بھر ادب سے اپنا رشتہ مضبوطی سے قائم رکھا۔ وہ صرف تحریر تک محدود نہیں رہے بلکہ عملی طور پر بھی ادبی سرگرمیوں کا حصہ بنتے رہے اور علیل ہونے سے قبل تک جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع میں منعقد ہونے والی ادبی کانفرنسوں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے رہے۔ ان محفلوں میں وہ اپنی مزاحیہ نظموں کے ذریعے سامعین کو نہ صرف محظوظ کرتے بلکہ زندگی کے مختلف پہلوؤں پر ہلکے پھلکے مگر بامعنی انداز میں روشنی بھی ڈالتے تھے۔ ان کی گفتگو میں سادگی، شائستگی اور برجستگی کا ایسا امتزاج ہوتا تھا جو سننے والوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیتا تھا۔
بابو نور محمد نورؔؔ کی شخصیت کی ایک نمایاں خوبی ان کا خوش گفتار ہونا تھا، جس کی بدولت وہ محفل میں موجود لوگوں کے دلوں میں آسانی سے جگہ بنا لیتے تھے۔ وہ اپنی بات کو نہایت سادہ اور دل نشین انداز میں پیش کرتے تھے، جس سے عام سامع بھی ان کے خیالات کو بخوبی سمجھ لیتا تھا۔ ان کی ادبی شرکت صرف تفریح کا ذریعہ نہیں تھی بلکہ وہ اپنے کلام اور گفتگو کے ذریعے معاشرتی شعور بیدار کرنے کی کوشش بھی کرتے تھے۔ یوں ان کی زندگی ادب، مزاح اور فکری آگاہی کا ایک خوبصورت امتزاج تھی، جو انہیں اپنے دور کا ایک منفرد اور یادگار ادیب بناتی ہے۔
بابو نور محمد نورؔؔ گزشتہ کچھ عرصے سے علیل تھے اور ان کا علاج پونچھ کے علاوہ جموں کے مختلف پرائیویٹ اسپتالوں میں جاری رہا، جہاں ڈاکٹروں کی جانب سے ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کی گئیں، مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔ بالآخر 4 اپریل 2026 کو وہ اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے اور اپنے چاہنے والوں کو غمزدہ چھوڑ گئے۔ ان کے انتقال کی خبر سنتے ہی پورے علاقے میں سوگ کی فضا قائم ہو گئی۔ مرحوم کی نمازِ جنازہ چنڈک میں ادا کی گئی، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کر کے مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ بعد ازاں انہیں چنڈک کے مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ مرحوم کی وفات پر ان کے فرزند ارجمند ڈاکٹر جاوید راہی کے ساتھ مختلف سیاسی، سماجی، ادبی اور ثقافتی تنظیموں کے نمائندگان، دانشوروں، ادیبوں اور معزز شخصیات نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔
بابو نور محمد نورؔؔ کی وفات نہ صرف اُن کے اہلِ خانہ، احباب اور عقیدت مندوں کے لیے ایک عظیم صدمہ ہے بلکہ بالخصوص گوجری زبان و ادب کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان بھی ہے۔ اُن کے انتقال سے گوجری ادب ایک ایسی ہمہ جہت اور باصلاحیت شخصیت سے محروم ہوگیا ہے جس نے اپنی پوری زندگی زبان، ثقافت اور عوامی شعور کے فروغ کے لیے وقف کیے رکھی۔ بابو نور محمد نورؔؔ نے اپنی شاعری، نظم نگاری، گیتوں اور مزاحیہ تخلیقات کے ذریعے گوجری ادب کو نہ صرف وسعت عطا کی بلکہ اسے عوامی سطح پر مقبول اور مؤثر بھی بنایا۔ خاص طور پر طنز و مزاح کے میدان میں اُن کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے مزاح کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے اصلاحِ معاشرہ، سماجی بیداری اور فکری تربیت کا ایک مؤثر وسیلہ بنایا۔ اُن کی تحریروں میں دیہی زندگی کی سادگی، عوامی جذبات کی سچائی اور معاشرتی مسائل کی حقیقی تصویر نمایاں نظر آتی ہے۔ آج اُن کے بچھڑ جانے سے گوجری طنز و مزاح کا ایک ایسا چراغ گل ہوگیا ہے جس کی روشنی مدتوں اہلِ ادب کی رہنمائی کرتی رہے گی۔ ان کے بعد جو خلا پیدا ہوا ہے اسے پُر کرنا آسان نہیں، کیونکہ وہ محض ایک شاعر یا ادیب نہیں بلکہ ایک عہد، ایک فکر اور ایک مکمل ادبی روایت کا نام تھے۔ ان کی تخلیقات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہیں گی اور گوجری ادب کی تاریخ میں اُن کا نام ہمیشہ احترام اور محبت سے لیا جاتا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ بابو نور محمد نورؔؔ کی مغفرت فرمائے، اُن کی ادبی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا کرے، اُن کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔ آمین۔