ست شرما نے جموں و کشمیر میں اسکیموں کے اثرات اجاگر کیے، حکومت نے اعداد و شمار پیش کیے
عمارت ڈیسک
نئی دہلی: جموں و کشمیر بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا رکن ست شرمانے ایوان بالا میں ‘لکھپتی دیدی’ اور ‘نمو ڈرون دیدی’ اسکیموں کے نفاذ اور اثرات سے متعلق ایک غیر ستارہ سوال اٹھاتے ہوئے خواتین کو بااختیار بنانے میں ان اقدامات کے کردار کو اجاگر کیا۔سوال کے جواب میں خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت میں وزیر مملکت ساویتری ٹھاکرنے دونوں اسکیموں کے تحت حاصل شدہ پیش رفت کی تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے بتایا کہ ‘لکھپتی دیدی’ اقدام، جو دین دیال انتودیہ یوجنا – نیشنل رورل لائیولی ہْڈ مشن کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، نے جموں و کشمیر میں خواتین کی مالی خود مختاری میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 31 دسمبر 2025 تک بارہمولہ (19,030)، کپواڑہ (17,978)، جموں (17,125) اور اننت ناگ (16,761) اضلاع ‘لکھپتی دیدی’ اسٹیٹس حاصل کرنے والی خواتین کی تعداد میں سرفہرست رہے۔
وزیر مملکت نے’نمو ڈرون دیدی‘ اسکیم کے حوالے سے بتایا کہ یہ وزارتِ زراعت و کسان فلاح کے تحت 2023-2024 سے2025-26 تک 1,261 کروڑ روپے کے بجٹ سے نافذ کی جا رہی ہے، جس کے ذریعے خواتین خود امدادی گروپوں کو ڈرون پر مبنی زرعی خدمات فراہم کرنے کے قابل بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ملک بھر میں اب تک 1,094 سے زائد ڈرون تقسیم کیے جا چکے ہیں اور خواتین کو ڈی جی سی اے سے منظور شدہ ریموٹ پائلٹ ٹریننگ اداروں کے ذریعے تربیت فراہم کی جا رہی ہے، جس سے زرعی پیداوار میں اضافہ، آمدنی کے ذرائع میں تنوع اور دیہی معیشت کو تقویت ملی ہے۔
اس جواب پر تبصرہ کرتے ہوئے ست شرما نے کہا کہ یہ اعداد و شمار وزیر اعظم نریندرمودی کی دور اندیش قیادت اور خواتین کی قیادت میں ترقی کے حکومتی عزم کا واضح ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں خواتین کی ترقی سے خواتین کی قیادت میں ترقی کی جانب ایک بڑی تبدیلی آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ دیہی خواتین کو جدید ڈرون ٹیکنالوجی سے جوڑنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت خواتین کو روایتی حدود سے نکال کر جدید مواقع فراہم کر رہی ہے تاکہ وہ ہر شعبے میں آگے بڑھ سکیں۔
ست شرما نے مزید کہا کہ ‘لکھپتی دیدی’ اور ‘نمو ڈرون دیدی’ جیسی اسکیمیں صرف منصوبے نہیں بلکہ سماجی و معاشی تبدیلی کے مؤثر ذرائع ہیں جو خاص طور پر جموں و کشمیر جیسے خطوں میں نچلی سطح پر زندگیوں کو بدل رہی ہیں۔انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ دین دیال انتودیہ یوجنا کے تحت اسٹارٹ اپ ولیج انٹرپرینیورشپ پروگرام اور دیگر کاروباری ماڈلز کے ذریعے خواتین کے لیے غیر زرعی روزگار کے مواقع کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔
