دبئی کے ایک فلیٹ میں معاذ اپنے امّی ابو کے ساتھ رہتا تھا۔ مگر اس کا دل ہمیشہ پونے میں رہنے والے اپنے دادا دادی، چاچو اور پھوپھی کے پاس لگا رہتا تھا۔
ان دنوں دنیا کے کچھ حصّوں میں جنگ کے حالات تھے۔ آسمان میں کبھی میزائلوں کی آوازیں سنائی دیتیں، کبھی فضا میں گشت کرتے جنگی جہاز دکھائی دیتے۔ رات کے وقت شہر میں سائرن بجتے تو لوگ گھبرا کر گھروں میں چلے جاتے۔ معاذ چھوٹی عمر کا تھا، مگر وہ ماحول کی سنجیدگی محسوس کرنے لگا تھا۔
اسکول میں بھی حالات کے پیشِ نظر کچھ دنوں کے لیے چھٹیاں ہو گئی تھیں۔ معاذ کھڑکی سے باہر دیکھتا تو اسے لگتا کہ دنیا پہلے جیسی خوشگوار نہیں رہی۔ وہ اکثر سوچتا: کاش میں ابھی دادا دادی کے پاس پونے میں ہوتا۔
وہ روز موبائل اٹھاتا اور دادا دادی کو ویڈیو کال کرنے کی کوشش کرتا، مگر انٹرنیٹ ٹھیک سے نہیں چلتا تھا۔ کال لگتی بھی تو فوراً رک جاتی۔
رمضان کے دن تھے۔ معاذ بڑے شوق سے روزے رکھتا۔ افطار کے وقت جب سب دعا کرتے تو وہ آہستہ سے کہتا: یا اللہ! بس ایک بار دادا دادی کو دیکھنے کی خوشی دے دے۔
وقت گزرتا گیا اور عید کا دن آ گیا۔ معاذ نے عید کی نماز ادا کی، مگر اس کے دل میں ایک اداسی سی تھی۔ نماز کے بعد وہ خاموشی سے موبائل ہاتھ میں لے کر بیٹھ گیا۔
وہ دل ہی دل میں دعا کر رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر موبائل پر گئی۔ نیٹ ورک کی ڈنڈیاں پوری نظر آ رہی تھیں۔
معاذ نے خوشی سے فوراً دادا کو ویڈیو کال کی۔ جیسے ہی کال اٹینڈ ہوئی، اس نے دیکھا کہ دادا دادی، چاچو اور پھوپھی سب ایک جگہ بیٹھے ہیں۔ سب کے چہروں پر مسکراہٹ بھی تھی اور آنکھوں میں آنسو بھی۔
"معاذ بیٹا تم ٹھیک ہو نا؟” دادا نے پیار سے پوچھا۔
معاذ کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے۔ امّی ابو بھی جذباتی ہو گئے۔ سب ایک دوسرے کی خیریت پوچھنے لگے۔
معاذ کے ابو نے کہا: "ان شاء اللہ، حالات بہتر ہوتے ہی ہم جلد بھارت آنے کی کوشش کریں گے تاکہ سب سے مل سکیں۔”
اس دن معاذ نے محسوس کیا کہ جنگ اور مشکل حالات کے باوجود اگر دل میں امید اور اللہ پر یقین ہو تو خوشی کی روشنی ضرور ملتی ہے۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر آہستہ سے کہا: "یا اللہ! آج مجھے سمجھ آیا کہ اصل عید تو اپنوں کی محبت اور تیرے کرم سے ہوتی ہے۔”
