متعلقہ مضامین اور خبریں

تیرے بنا

مجموعہ مضامین

کیرالہ کے وزیراعلیٰ کا راہل گاندھی پر حملہ، بی جے پی کی بی ٹیم قرار دیا

تھیروونانتھاپورم؍؍کیرالہ کے وزیراعلیٰ پناریائی وجیان نے لوک سبھا میں...

تھینک یو اللہ

دبئی کے ایک فلیٹ میں معاذ اپنے امّی ابو...

تیرے بنا

نسیمہ نے کھانستے ہوئے دوبارہ روپئے گنے۔ پورے ایک...

عید

زوبیہ نے اپنی بیٹی زویا سے پوچھا: اب اور...

ایس ڈی ایم ٹھاٹھری شیتل شرما کی عید الفطر پر مبارکباد، امن و ہم آہنگی کا پیغام

ٹھاٹھری؍؍سب ڈویژنل مجسٹریٹ ٹھاٹھری شیتل شرما (جے کے اے...

عید

زوبیہ نے اپنی بیٹی زویا سے پوچھا: اب اور کتنے سوٹس لوگی گڑیا؟

امی جان! آپ کو تو پتہ ہے کہ عید الفطر کے موقع پر میں ہر سال کم از کم پانچ جوڑے کپڑے خرید لاتی ہوں۔

مگر چندا! ہر سال کی طرح اس سال بھی لینا ضروری تو نہیں ہے۔

پر کیوں امی؟

زویا! زندگی میں حالات تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ ہر سال آپ نے لیے ہیں، لیکن اس سال حالات کچھ اور ہیں گڑیا، اور آپ نے پہلے والے ڈریسز پہنے ہی نہیں ہیں وہ بھی تو نئے ہیں۔ اسی پر اکتفا کر لیتے ہیں۔ میں نے بھی اپنی شاپنگ نہیں کی ہے، صرف دادا جان اور دادی جان کے لیے نئے ملبوسات لیے ہیں۔ آپ کے بابا جان بھی سال گزشتہ کا کرتا پہن رہے ہیں۔

پر کیوں؟ یہ قربانی دینے کی کیا ضرورت ہے امی جان؟ الحمد للہ ہم کثیر آمدنی والے ہیں اور میں تو آپ کی اکلوتی بیٹی ہوں۔

ہاں بیٹی! ہم جانتے ہیں کہ عید کے معنی ہی خوشی و مسرت کے ہوتے ہیں۔ اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کو اس نعمت سے نوازا ہے، پر ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اس کے چند بندے ہمارے محتاج ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کی مدد کا وسیلہ ہمیں بنایا ہے۔ اس لیے اگر ہم اپنے سے کم تر پر رحم کھائیں گے تو اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہو جائے گا۔

آپ کو معلوم ہے حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ مسلمانوں کے ایک مشہور خلیفہ تھے۔ وہ خلیفہ بننے سے پہلے بڑی شان و شوکت والی زندگی گزارتے تھے، لیکن دورِ خلافت میں ان کی زندگی بالکل تبدیل ہو گئی، یہاں تک کہ عید کے موقع پر اپنے بیوی بچوں کو نئے کپڑے تک نہیں بنوائے۔ اپنی ساری دولت اور سارے قیمتی زیورات اور سامان بیت المال میں داخل کروا دیے۔ اس دور کے ایسے نیک اور پرہیزگار بندے ہوا کرتے تھے جو اپنی ساری ملکیت عوام اور خدا کے بندوں پر خرچ کیا کرتے تھے، اور ان کا ساتھ دینے میں خاندان کبھی پس و پیش نہیں رہا۔

امی جان! واقعی یہ تو ایمان کے عروج کی مثال ہے۔

ہاں بیٹی! اتنا نہ سہی، ہم ذرا سا بھی کر لیں گے تو ہمارا ایمان تازہ اور دل مطمئن ہو جائیں گے۔ پچھلے سال جو کپڑے لیے گئے ہیں، ان میں اگر آپ چند سوٹس کسی غریب کو دو گی تو اس کے گھر بھی عید کی خوشیاں دو بالا ہو جائیں گی۔

جی امی جان! آپ نے آج مجھے عید کے معنی بتا دیے۔

ہاں بیٹی! اور ابا جان کے بھی ہم معاون بنیں گے۔ کم اخراجات کرنے سے اسراف سے بچ سکتے ہیں اور وہی رقم زکوٰۃ، صدقہ اور خیرات میں استعمال میں لائی جا سکتی ہے۔

بالکل صحیح کہا بہو! ارے دادی جان، آپ نے ہماری ساری باتیں سن لی کیا؟

ہاں زویا! آپ کی امی ایک نیک اور اچھی امی ہیں۔ میں اللہ کا لاکھ لاکھ شکر بجا لاتی ہوں کہ اس نے مجھے ایک عقل و دانش مند اور دیندار بہو عطا فرمائی ہے۔