لیہہ؍؍چیف سیکریٹری آشیش کندرا نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے لداخ میں بھرتیوں، ترقیوں اور خالی آسامیوں کی صورتحال کا جائزہ لیا اور عمل کو تیز کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
اجلاس میں مختلف محکموں میں بھرتیوں، ترقیوں اور آسامیوں کو یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) سمیت دیگر اداروں کو بھیجنے کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ چیف سیکریٹری نے ہدایت دی کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹیز (DPCs) کے ذریعے ترقیوں کو تیز کیا جائے تاکہ جمود ختم ہو اور نئی آسامیوں کے لیے جگہ پیدا ہو۔
انتظامی سیکریٹریز نے جاری بھرتیوں، خالی آسامیوں اور آئندہ بھرتی منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ گزٹڈ اور نان گزٹڈ عہدوں پر ترقیوں اور مختلف محکموں میں عملے کی کمی کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں لداخ سبارڈینیٹ سروسز سلیکشن بورڈ اور لداخ سبارڈینیٹ سروسز ریکروٹمنٹ بورڈ کی جانب سے منعقد ہونے والے امتحانات کی تیاریوں پر بھی غور کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ مختلف آسامیوں کے لیے امتحانات 28 مارچ سے شروع ہو کر مئی تک جاری رہیں گے۔ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے دونوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو امتحانی نگرانوں کی باہمی تبدیلی کی ہدایت دی گئی۔
چیف سیکریٹری نے طویل عرصے سے خالی آسامیوں کو جلد پر کرنے اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے دونوں اضلاع میں روزگار میلوں کے انعقاد پر بھی زور دیا۔ انہوں نے بھرتی کے قواعد کو یو جی سی اصولوں کے مطابق رکھنے کی ہدایت بھی دی۔
اجلاس میں کلچر اکیڈمی، صحت اور اسکول ایجوکیشن جیسے اہم شعبوں میں عملے کی کمی پر تشویش ظاہر کی گئی۔ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت دی گئی کہ مختلف محکموں کے لیے یکساں ریکروٹمنٹ رولز (RR) تیار کیے جائیں تاکہ بھرتی کے عمل کو آسان اور مؤثر بنایا جا سکے۔
تمام محکموں کو ہدایت دی گئی کہ وہ 15 دن کے اندر ایک مرکزی ڈیجیٹل ڈیٹا بیس تیار کریں جس میں خالی آسامیوں، ڈی پی سیز کی تاریخوں اور موجودہ صورتحال کی تفصیلات شامل ہوں، تاکہ شفافیت اور نگرانی کو بہتر بنایا جا سکے۔
نئے اضلاع کے قیام کے پیش نظر چیف سیکریٹری نے محکموں کو ہدایت دی کہ وہ تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے جیسے شعبوں میں افرادی قوت کی ضرورت کا تفصیلی جائزہ لیں تاکہ نئی انتظامی اکائیوں میں خدمات کی مؤثر فراہمی ممکن ہو سکے۔
اجلاس میں سی جی ایچ ایس، پرانی و نئی پنشن اسکیم سمیت دیگر سروس معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مختلف محکموں کے سینئر افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔
