منشیات کے خلاف مسلمانوں کا اجتماعی عہد؛ خلیجی ممالک میں ہندوستانی شہریوں کا تحفظ بے حد ضروری: شیخ ابوبکر احمد
شبِ قدر (لیلۃ القدر) وہ عظیم اور بابرکت رات ہے جسے قرآنِ مجید نے ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا ہے۔ اس رات میں قرآن کا نزول ہوا، فرشتے اور جبرئیل امین زمین پر اترتے ہیں۔ یہ توبہ، دعا اور مغفرت کی عظیم رات ہے جس میں عبادت کرنے والوں کو گراں قدر ثواب عطا کیا جاتا ہے اور پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
اسی مناسبت سے ریاست کیرالا کے مالاپورم میں شبِ قدر کے موقع پر بھارت کا سب سے بڑا ایک روزہ عظیم الشان پیس دعائیہ اجتماع منعقد ہوا، جس میں ملک کے متعدد علاقوں سے علما و مشائخ سمیت ریاست بھر سے ایک لاکھ کے قریب روزہ دار شریک ہوئے۔ پروگرام کا آغاز بعد نمازِ ظہر اسماء البدرین مجلس سے ہوا۔ ہزاروں روزہ داروں کی شرکت سے عظیم الشان اجتماعی افطار کا اہتمام کیا گیا، جبکہ مختلف سیشنز میں حلقۂ ذکر، اجتماعی تلاوت، مغرب، عشاء، تراویح، اوابین اور صلوٰۃ التسبیح مرکزی اسٹیج سے ادا کی گئیں۔
مسلسل پوری رات شب بیداری، مجلسِ توبہ و استغفار میں رحمت، مغفرت اور بخشش کے طلبگاروں کا ہجوم امڈ پڑا۔ ساداتِ کیرالا نے اپنے روایتی انداز میں حلقۂ ذکر اور عالمی امن کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔ ہر جانب فلک شگاف آمین کی صداؤں سے پورا مجمع گونج اٹھا۔ مغفرت و توبہ کی مجلس میں کھڑے ہو کر سینوں پر ہاتھ رکھ کر خشوع و خضوع کے ساتھ کی جانے والی دعائیں ایک روح پرور منظر پیش کر رہی تھیں۔
رات نو بجے عظیم الشان پیس دعائے امن کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں معدن اکیڈمی کے سرپرستِ اعلیٰ سید خلیل ابراہیم بخاری نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے موجودہ عالمی بحران پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت کو درپیش مسائل دراصل اخلاقی اور روحانی بحران کا نتیجہ ہیں۔ اس سے نکلنے کے لیے انسان کو اپنی روحانی ذمہ داری کو یاد کرنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ انسان نے تکنیکی اور معاشی میدان میں بڑی ترقی حاصل کر لی ہے، مگر اس کے ساتھ اخلاقیات اور روحانیت کا فقدان بھی بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں جنگیں، فسادات، آمریت، فرقہ واریت اور ماحولیاتی تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سرحدوں سے اوپر اٹھ کر آفاقی انصاف اور اخلاقی شعور کو فروغ دیں—یہی رمضان کا اصل پیغام ہے کہ انسان اپنی اخلاقی ذمہ داری کو پورا کرے۔
گرانڈ مفتی آف انڈیا، شیخ ابوبکر احمد نے اپنے ناصحانہ خطاب میں کہا کہ مسلمان توبہ و استغفار کی کثرت کریں اور رمضان کے آخری ایام میں عبادت میں اضافہ کریں۔ انہوں نے اہلِ خیر سے اپیل کی کہ عید الفطر کے موقع پر اپنی خوشیوں میں غریبوں اور مسکینوں کو بھی شامل کریں۔
شیخ نے مرکزی حکومت سے خلیجی ممالک میں مقیم ہندوستانیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی اپیل بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ انسانیت کے لیے شدید خطرہ ہے، جس میں بے شمار معصوم بچے اور خواتین مارے جا رہے ہیں۔ نفرت اور آمریت کو شکست دینے کے لیے سفارتی کوششیں ناگزیر ہیں۔
کانفرنس سے سمتھا کیرالا جمعیۃ العلماء کے سکریٹری علامہ عبدالقادر، سی محمد فیضی، ڈاکٹر حسین ثقافی، عبدالرحمن دارمی اور پروفیسر اے کے عبدالحمید نے بھی خطاب کیا۔ سید علی بافقیہ تنگل کی دعا سے اجلاس کا آغاز ہوا، جبکہ ای سلیمان مسلیار نے صدارت فرمائی۔
معدن اکیڈمی کے چیئرمین سید خلیل بخاری نے منشیات کے خلاف حلف اور اختتامی دعا کی قیادت کی۔ پروگرام انتظامیہ نے زائرین اور روزہ داروں کی سہولت کے لیے 5555 رضاکاروں کی خدمات حاصل کیں، جنہوں نے مثالی خدمت انجام دی۔
مالاپورم کے معدن اکیڈمی میں منعقدہ شبِ قدر کے موقع پر پیس روحانی اجتماع سے سید خلیل البخاری خطاب کرتے ہوئے۔
