کیا بھارت مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے حوالے سے اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کر رہا ہے؟ جب بھی مشرقِ وسطیٰ میں کوئی تنازع بھڑکتا ہے تو یہی سوال ٹی وی اسٹوڈیوز اور اداریوں میں گونجنے لگتا ہے: بھارت کس کا ساتھ دے گا؟ ایران کے گرد بڑھتی کشیدگی کے کھلے تصادم میں بدلنے کے ساتھ یہ بحث ایک بار پھر شدت سے سامنے آئی ہے۔ کیا بھارت ایران کی حمایت کرے؟ اسرائیل اور مغرب کے ساتھ کھڑا ہو؟ یا غیر جانبدار رہے؟
لیکن خود یہ سوال ہی غلط ہے۔ خارجہ پالیسی اخلاقی نعروں یا نظریاتی ہمدردیوں کی بنیاد پر نہیں چلتی بلکہ قومی مفاد کے کم رومانوی حساب و کتاب پر استوار ہوتی ہے۔ اس معیار پر پرکھا جائے تو ایران کے جاری بحران میں بھارت کا موقف نہ تو مبہم ہے اور نہ ہی ہچکچاہٹ کا شکار، بلکہ یہ ایک سوچا سمجھا فیصلہ ہے کیونکہ بھارت کسی ایک فریق کا انتخاب کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
ایک وقت تھا جب نئی دہلی کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی نسبتاً سادہ دکھائی دیتی تھی۔ آزادی کے بعد کے عشروں میں بھارت فطری طور پر عرب دنیا کی طرف جھکاؤ رکھتا تھا جبکہ اسرائیل سے ایک محتاط فاصلے پر رہتا تھا۔ یہ رویہ داخلی سیاسی عوامل اور عدم وابستگی تحریک کی اخلاقی سوچ کا عکاس تھا۔ لیکن جغرافیائی سیاست کبھی ساکن نہیں رہتی۔ گزشتہ تین دہائیوں میں اس خطے کے ساتھ بھارت کے تعلقات میں خاموش مگر گہری تبدیلی آئی ہے۔
آج بھارت اسرائیل کے ساتھ ایک مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری رکھتا ہے۔ دفاعی ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس تعاون، زراعت اور داخلی سلامتی جیسے شعبوں میں اشتراک اس کا حصہ ہیں۔ اسرائیلی نظام بھارت کی سیکیورٹی ساخت میں شامل ہو چکے ہیں، چاہے وہ جدید نگرانی ٹیکنالوجی ہو یا میزائل دفاعی نظام۔
اسی کے ساتھ بھارت نے ایران کے ساتھ تعلقات کو بھی احتیاط سے فروغ دیا ہے، کیونکہ تہران کی جغرافیائی اور اسٹریٹجک اہمیت سے وہ بخوبی آگاہ ہے۔ ایران بھارت کیلئے افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی کا ایک اہم راستہ فراہم کرتا ہے، خاص طور پر چاہ بہار بندرگاہ کے منصوبے کے ذریعے، جو پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے یوریشیا تک زمینی تجارتی راستہ مہیا کرتا ہے۔
اس مساوات کا تیسرا اہم ستون امریکہ کے ساتھ بھارت کی بڑھتی ہوئی شراکت داری ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں نئی دہلی اور واشنگٹن کے تعلقات محتاط آشنائی سے اسٹریٹجک شراکت داری میں بدل چکے ہیں۔ دفاعی معاہدے، مشترکہ فوجی مشقیں اور جدید ٹیکنالوجی کا تبادلہ اب اس تعلق کی بنیاد ہیں۔
نتیجہ ایک سفارتی مثلث کی صورت میں سامنے آتا ہے: بھارت کو بیک وقت ایران، اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ تعلقات رکھنا ہیں — تین ایسے فریق جن کے مفادات اکثر ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں۔ ایسے ماحول میں یہ توقع کرنا کہ بھارت کسی ایک فریق کے ساتھ کھل کر کھڑا ہو جائے، موجودہ بھارتی سفارت کاری کو نہ سمجھنے کے مترادف ہے۔
صرف معاشی مفادات ہی اس طرح کے کسی بھی جھکاؤ کو خطرناک بنا دیتے ہیں۔ بھارت اپنی خام تیل کی ضرورت کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے اور مشرقِ وسطیٰ کی توانائی فراہمی کا استحکام اس کی معیشت کیلئے نہایت اہم ہے۔ خلیج فارس میں کسی بھی بڑے خلل کا فوری اثر عالمی منڈیوں پر پڑتا ہے، جس سے توانائی کی قیمتیں بڑھتی ہیں اور بھارت کی معیشت پر دباؤ آتا ہے۔
ایک ایسے ملک کیلئے جسے مہنگائی پر قابو رکھنا، ترقی کو برقرار رکھنا اور کروڑوں لوگوں کی قوت خرید کو محفوظ بنانا ہو، مشرقِ وسطیٰ میں بحران کوئی دور کا معاملہ نہیں بلکہ ایک معاشی دراڑ ہے۔
اس کے ساتھ ایک انسانی پہلو بھی موجود ہے۔ خلیجی خطے میں لاکھوں بھارتی کام کرتے ہیں اور ہر سال اربوں ڈالر وطن بھیجتے ہیں۔ بھارت دنیا میں ترسیلات زر حاصل کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، جسے ریکارڈ 135 ارب ڈالر موصول ہوئے۔ ان میں سے تقریباً 38 فیصد خلیجی تعاون کونسل کے ممالک سے آتے ہیں۔
ان لاکھوں افراد کی سلامتی، روزگار اور معاشی استحکام بھارت کے قومی مفاد کا ایک اہم حصہ ہے۔ کوئی بھی سفارتی موقف جو خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچائے، فوری اور حقیقی خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ یہی وجوہات ہیں کہ نئی دہلی نے ہمیشہ نظریاتی وابستگی سے گریز کیا ہے۔
اس کے بجائے بھارت نے جس چیز کو اب ‘‘اسٹریٹجک خودمختاری’’ کہا جاتا ہے، اسے اپنایا ہے — یعنی مختلف حریف طاقتوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے کسی ایک کیمپ کا حصہ نہ بننا۔ یہ نظریہ سرد جنگ کے دور کی عدم وابستگی سے مختلف ہے۔ جہاں عدم وابستگی میں اخلاقی پہلو غالب تھا، وہیں اسٹریٹجک خودمختاری مکمل طور پر عملی سوچ پر مبنی ہے۔
یہ اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ عالمی نظام اب سخت بلاکس پر نہیں بلکہ بدلتے اتحادوں اور باہمی مفادات پر قائم ہے۔ اس فریم ورک کے تحت سفارت کاری دوست اور دشمن کے انتخاب کا نام نہیں بلکہ بیک وقت کئی شراکت داریوں کو سنبھالنے کا فن ہے۔
کچھ ناقدین اس رویے کو سفارتی تذبذب قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک ابھرتی طاقت کو واضح نظریاتی قیادت دکھانی چاہیے۔ لیکن یہ تنقید ایک بنیادی حقیقت کو نظر انداز کرتی ہے: کسی بھی حکومت کی پہلی ذمہ داری اپنے قومی مفادات کا تحفظ ہے۔ بڑے دعوے عوام کو متاثر کر سکتے ہیں مگر وہ ہمیشہ اسٹریٹجک فائدہ نہیں دیتے۔
بھارت کا محتاط رویہ درحقیقت اسے ایک منفرد برتری بھی دیتا ہے — یعنی وہ ایسے حالات میں بھی رابطے برقرار رکھ سکتا ہے جب حریف طاقتیں ایک دوسرے سے بات چیت سے انکار کر دیتی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ جیسے غیر مستحکم خطے میں یہ صلاحیت خود ایک اثر و رسوخ کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
عالمی سطح پر ایک بڑی تبدیلی بھی جاری ہے۔ دنیا بتدریج سخت اتحادوں سے نکل کر ایک کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ایسے ماحول میں لچک ایک اسٹریٹجک اثاثہ بن جاتی ہے۔ جو ممالک خود کو کسی ایک کیمپ تک محدود کر لیتے ہیں، وہ بدلتے اتحادوں کے ساتھ اپنی گنجائش کھو دیتے ہیں۔ اسی لیے بھارت نے اپنی سفارتی روایت کو زیادہ سے زیادہ گنجائش برقرار رکھنے کی طرف موڑ دیا ہے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ سوال کہ آیا بھارت ایران کے تنازع میں کسی کا ساتھ دے گا، اپنی اہمیت کھو دیتا ہے۔ نئی دہلی تمام فریقین سے رابطہ رکھے گا، تحمل کی اپیل کرے گا، سفارتی حل کی حمایت کرے گا اور اپنے معاشی مفادات کا تحفظ کرے گا۔ وہ ضرورت پڑنے پر شراکت داروں کے ساتھ تعاون بھی کرے گا اور جہاں فائدہ ہو وہاں مخالفین سے بھی بات چیت جاری رکھے گا۔
لیکن وہ ‘‘ہم اور وہ’’ جیسے سادہ دو حصوں میں تقسیم بیانیے کا حصہ بننے سے گریز کرے گا۔ بھارتی سفارت کاری کیلئے اصل چیلنج یہ نہیں کہ تہران یا تل ابیب میں سے کسی ایک کا انتخاب کیا جائے، بلکہ ایک غیر مستحکم خطے میں اپنی خودمختاری اور اثر و رسوخ کو برقرار رکھتے ہوئے راستہ نکالا جائے۔
اس کیلئے صبر، احتیاط اور کبھی کبھار ان لوگوں کو مایوس کرنے کا حوصلہ درکار ہوتا ہے جو جذباتی بیانات کو محتاط حکمت عملی پر ترجیح دیتے ہیں۔
گزشتہ دہائیوں میں بھارت کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی دو بڑے تضادات کے گرد گھومتی تھی: امریکہ بمقابلہ خطہ، اور اسرائیل بمقابلہ عرب دنیا۔ خطے کے اندرونی تنازعات — عرب اور فارس کے درمیان، یا بادشاہتوں اور انقلابی جمہوریات کے درمیان — کو کم اہمیت دی جاتی تھی۔
آج نئی دہلی زیادہ حقیقت پسندانہ انداز اپنائے ہوئے ہے۔ جیسا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے بارہا کہا ہے: ‘‘ہم ‘انڈیا فرسٹ’ کے نظریے پر یقین رکھتے ہیں۔ بھارت تمام تنازعات کے حل کیلئے بات چیت اور سفارت کاری کی حمایت کرتا ہے۔’’
یہی اصول بھارت کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی کی بنیاد ہے: سب کے ساتھ تعلق، کسی کے ساتھ مکمل وابستگی نہیں۔ ایک ایسی دنیا میں جو وفاداری کے امتحان لیتی ہے، یہ محتاط رویہ شاید کم نمایاں نظر آئے، مگر یہی حکمت عملی بھارت کو اپنے مفادات کے تحفظ اور سفارتی گنجائش میں اضافے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
(کالم نگار معروف مصنف، سینئر صحافی اور یوٹیوب چینل ‘وی دی نیشن نیوز’ کے منیجنگ ایڈیٹر ہیں۔ ان سے tushidebsai@gmail.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔)
