متعلقہ مضامین اور خبریں

مجموعہ مضامین

وادیِ چناب اور چناپی شناخت

برصغیر کی تاریخ میں دریاؤں کو ہمیشہ تہذیبوں کی ماں کہا گیا ہے۔ سندھ، گنگا، جمنا اور راوی کی طرح دریائے چناب بھی صرف ایک بہتا ہوا پانی نہیں، بلکہ ایک پوری تہذیب، ایک مکمل شناخت اور ایک زندہ تاریخ کا استعارہ ہے۔ وادیِ چناب، جو ہمالیہ کی گود سے نکل کر میدانی پنجاب تک پھیلی ہوئی ہے، صدیوں سے انسانی آبادکاری، ثقافتی تنوع اور لسانی امتزاج کا مرکز رہی ہے۔ مگر افسوس کہ اس وادی کے باشندوں کی منفرد شناخت، جسے ہم "چناپی شناخت” کہہ سکتے ہیں، آج تک نہ تو مناسب علمی توجہ کا موضوع بنی اور نہ ہی سیاسی اور انتظامی سطح پر اسے وہ اعتراف حاصل ہوا جس کی وہ مستحق ہے۔

یہ مضمون اسی نظرانداز شناخت کو آواز دینے کی ایک کوشش ہے۔

وادیِ چناب: جغرافیہ سے تہذیب تک

دریائے چناب، جسے قدیم سنسکرت متون میں "اسکنی” کہا گیا، لاہول اسپتی کے برفانی چشموں سے جنم لیتا ہے اور جموں کے پہاڑی علاقوں سے گزرتے ہوئے پنجاب کے زرخیز میدانوں میں اترتا ہے۔ اس کا بالائی حصہ، جو ڈوڈہ، کشتواڑ اور رامبن کے اضلاع پر مشتمل ہے، ایک ایسی دنیا ہے جہاں فطرت اپنی تمام تر جلوہ گری کے ساتھ موجود ہے۔ گھنے جنگلات، بلند و بالا پہاڑ، تنگ اور پیچ دار گھاٹیاں اور ان کے درمیان آباد چھوٹے چھوٹے گاؤں، یہ ہے وادیِ چناب کا اصل چہرہ۔

ٹھاٹھری، دریائے چناب کے کنارے ایک چھوٹا سا شہر

یہ خطہ نہ تو جموں کے میدانی ڈوگرہ علاقے کا حصہ ہے اور نہ ہی وادیِ کشمیر کی ثقافتی حدود میں آتا ہے۔ یہ اپنی جگہ ایک مستقل اور منفرد جغرافیائی اور ثقافتی اکائی ہے، جس کی اپنی زبانیں ہیں، اپنی روایات ہیں، اپنا لباس ہے، اپنی موسیقی ہے اور اپنی مذہبی و سماجی زندگی کا ڈھنگ ہے۔ مگر بدقسمتی سے یہ خطہ تاریخی طور پر دو بڑی شناختوں، کشمیری اور ڈوگری، کے درمیان پِسا ہے اور اس کی اپنی آواز اکثر دب کر رہ گئی ہے۔

چناپی شناخت: ایک تعریف

"چناپی شناخت” سے مراد وہ مشترک ثقافتی، لسانی، تاریخی اور جذباتی وابستگی ہے جو وادیِ چناب کے باشندوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے اور انہیں اپنے پڑوسی علاقوں سے ممتاز کرتی ہے۔ یہ شناخت محض ایک جغرافیائی تعلق نہیں، بلکہ ایک جیتا جاگتا احساس ہے جو ان لوگوں کے گیتوں میں، ان کے قصے کہانیوں میں، ان کے تہواروں میں اور ان کی روزمرہ زندگی میں جھلکتا ہے۔

اس شناخت کے کئی اہم پہلو ہیں جن پر غور کرنا ضروری ہے۔

لسانی تنوع اور وادیِ چناب کی زبانیں

وادیِ چناب کا سب سے نمایاں اور دلچسپ پہلو اس کا غیر معمولی لسانی تنوع ہے۔ اس خطے میں بھدرواہی، کشتواڑی، پوگلی، سرازی اور پاڈری سمیت کئی زبانیں اور بولیاں بولی جاتی ہیں۔ ماہرین لسانیات میں اس بات پر اختلاف ہے کہ آیا یہ مستقل زبانیں ہیں یا ایک دوسرے سے ملتی جلتی بولیوں کا سلسلہ۔ تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ہند آریائی زبانوں کا ایک انمول خزانہ ہیں جو سینکڑوں سال کی تاریخ اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔

بھدرواہی زبان، جو ڈوڈہ ضلع کے بھدرواہ علاقے میں بولی جاتی ہے، اپنی شعری روایت اور لوک ادب کے اعتبار سے خاصی مالامال ہے۔ کشتواڑی، جو کشتواڑ کی وادی کی زبان ہے، اپنے منفرد لہجے اور الفاظ کے ذخیرے کے ساتھ ایک الگ ہی دنیا ہے۔ پوگلی، جو بنیادی طور پر رامبن ضلع اور ادھم پور کے چنینی کے پہاڑی حصوں میں بولی جاتی ہے، ابھی تک مناسب دستاویزسازی کی منتظر ہے۔

المیہ یہ ہے کہ ان زبانوں کو نہ سرکاری تعلیمی نظام میں جگہ ملی ہے اور نہ ہی ان کے تحفظ کے لیے کوئی سنجیدہ ادارہ جاتی کوشش کی گئی ہے۔ جب کوئی زبان نصاب سے باہر ہو، سرکاری دفاتر میں اجنبی ہو اور میڈیا میں غیر موجود ہو، تو اس زبان کے بولنے والوں کی شناخت بھی رفتہ رفتہ کمزور پڑنے لگتی ہے۔ آج وادیِ چناب کی نئی نسل اپنی مادری زبانوں سے دور ہوتی جا رہی ہے اور یہ دوری صرف لسانی نہیں بلکہ ثقافتی اور نفسیاتی بھی ہے۔

ہندو مسلم اشتراک: گنگا جمنی تہذیب کا ایک روشن باب

وادیِ چناب کا ایک انتہائی قابل فخر پہلو یہاں کا ہندو مسلم اشتراک ہے۔ اس خطے میں صدیوں سے ہندو اور مسلمان نہ صرف پڑوسی بلکہ ایک دوسرے کے سماجی اور ثقافتی شریک رہے ہیں۔ مشترک میلے، مشترک مزارات، مشترک تہوار اور مشترک روایات اس وادی کی پہچان رہے ہیں۔

یہاں ایسے مزارات ہیں جہاں ہندو اور مسلمان یکساں عقیدت سے حاضری دیتے ہیں۔ ایسے تہوار ہیں جنہیں دونوں مذاہب کے لوگ مل جل کر مناتے ہیں۔ ایسی روایات ہیں جو کسی ایک مذہب کی نہیں بلکہ پوری وادی کی مشترک میراث ہیں۔ یہ اشتراک محض رواداری نہیں بلکہ ایک گہری ثقافتی یکجائی کا اظہار ہے جو صدیوں کے میل جول سے پروان چڑھی ہے۔

بدقسمتی سے جب بھی اس خطے پر سیاسی بحران یا فرقہ وارانہ کشیدگی آئی، اس مشترک ثقافتی سرمائے کو نقصان پہنچا۔ 1990 کی دہائی کی ہنگامہ خیزی نے اس وادی کو بھی متاثر کیا اور کئی مقامات پر وہ سماجی ہم آہنگی متزلزل ہوئی جو صدیوں میں تعمیر ہوئی تھی۔ تاہم اس وادی کے لوگوں کی اجتماعی یادداشت اور ان کا مشترک ثقافتی شعور آج بھی اس اشتراک کو قائم رکھنے کی ایک اہم بنیاد ہے۔

گوجر بکروال: وادی کی خانہ بدوش روح

وادیِ چناب کی شناخت کا ایک اٹوٹ حصہ گوجر اور بکروال برادریاں ہیں جو صدیوں سے اس خطے کی وادیوں اور چراگاہوں میں اپنا خانہ بدوشانہ جیون بسر کرتی آئی ہیں۔ یہ لوگ موسم کے ساتھ ساتھ اپنے مویشیوں کے ریوڑ لے کر بلندیوں اور پستیوں کے درمیان سفر کرتے رہتے ہیں اور ان کی یہ نقل مکانی ایک طرح سے پوری وادی کی دھڑکن ہے۔

گوجر اور بکروال برادریوں کی اپنی زبان، اپنی موسیقی، اپنے قصے اور اپنی روایات ہیں۔ ان کا لباس، ان کی دستکاری اور ان کی روزمرہ زندگی ایک منفرد تہذیبی نمونہ پیش کرتی ہے۔ مگر یہ برادریاں بھی نظام کے ہاشیے پر کھڑی ہیں۔ تعلیم، صحت، قانونی تحفظ اور سیاسی نمائندگی کے اعتبار سے وہ آج بھی بہت پیچھے ہیں۔ ان کی خانہ بدوش روایت کو اکثر ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جاتا ہے، حالانکہ یہ روایت دراصل صدیوں کے تجربے سے نکلی ایک ماحول دوست اور حکیمانہ طرز زندگی ہے۔

سیاسی محرومی اور انتظامی بے توجہی

وادیِ چناب کی سب سے بڑی تکلیف یہ ہے کہ اسے کبھی بھی ایک خودمختار اور مکمل شناخت کے ساتھ نہیں دیکھا گیا۔ تاریخی طور پر یہ خطہ جموں و کشمیر کی ریاست کا حصہ رہا اور اس ریاست میں سیاسی طاقت کا مرکز ہمیشہ یا تو وادیِ کشمیر رہا یا جموں کا ڈوگرہ علاقہ۔ وادیِ چناب کے لوگوں کو نہ سرینگر میں اپنا حقیقی نمائندہ ملا اور نہ جموں نے انہیں اپنا قرار دیا۔

ترقیاتی اعتبار سے بھی یہ خطہ پسماندہ رہا۔ سڑکوں کی بدحالی، طبی سہولتوں کا فقدان، تعلیمی اداروں کی ناکافی تعداد اور روزگار کے محدود مواقع نے نوجوانوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا۔ آج وادیِ چناب کے بہت سے ہونہار نوجوان لداخ، شِملہ اور دیگر شہروں میں روزگار تلاش کر رہے ہیں اور اپنی وادی سے رشتہ کاٹتے جا رہے ہیں۔ یہ نقل مکانی صرف جسمانی نہیں بلکہ ثقافتی بھی ہے۔

2019 میں جموں و کشمیر کی ریاست کو مرکزی زیر انتظام خطے میں تبدیل کرنے کے بعد یہ سوال اور بھی اہم ہو گیا ہے کہ وادیِ چناب کے لوگوں کی شناخت اور مفادات کا تحفظ کیسے ہو گا۔ نئے انتظامی ڈھانچے میں بھی یہ خطہ درمیان میں لٹکا نظر آتا ہے۔ نہ مکمل طور پر جموں ڈویژن کا حصہ اور نہ کشمیر کا۔ چناب ویلی پیپلز فورم اور اس نوعیت کی دیگر تنظیمیں ایک علیحدہ چناب ڈویژن یا ترقیاتی بورڈ کا مطالبہ کرتی رہی ہیں، مگر ابھی تک ان مطالبات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔

ادب اور شناخت کی تشکیل

کسی بھی شناخت کی پائیداری کا ایک اہم ذریعہ ادب ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے خوشی کی بات یہ ہے کہ وادیِ چناب میں ایک ادبی روایت ضرور موجود ہے۔ بھدرواہی، کشتواڑی اور دیگر مقامی زبانوں میں شاعری اور نثر لکھی جاتی رہی ہے، اور کچھ مقامی شعراء اور ادیبوں نے اپنی زبان اور ثقافت کے تحفظ کے لیے قابل قدر کام کیا ہے۔

تاہم یہ ادبی سرمایہ ابھی تک بکھرا ہوا ہے، غیر مدوّن ہے اور اسے وہ اشاعتی اور ادارہ جاتی سہارا نہیں ملا جو اسے ایک مضبوط تحریک کی شکل دے سکے۔ مقامی زبانوں میں اخبارات نہیں، ریڈیو پروگرام نہ ہونے کے برابر ہیں اور ٹیلی ویژن پر تو ان زبانوں کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے۔ جب تک کسی زبان کو میڈیا اور اشاعت کا سہارا نہ ملے، اس کا ادب صرف زبانی روایت تک محدود رہتا ہے اور زبانی روایت کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرنا آج کے دور میں انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔

سنہ 2021 سے ہماری تنظیم "دی چناب ٹائمز"، جس کا میں بانی اور مدیرِ اعلیٰ ہوں، وادیِ چناب کی مقامی زبانوں خصوصاً بھدرواہی، سرازی اور دیگر علاقائی بولیوں کے تحفظ اور فروغ کے لیے مسلسل کوششیں کرتی رہی ہے۔ اس مقصد کے تحت ہم نے عوامی رابطے کے مختلف ذرائع ابلاغ کے توسط سے ان زبانوں میں روزانہ خبروں کے بلیٹن نشر کیے، تاکہ مقامی زبانوں کو نہ صرف زندہ رکھا جائے بلکہ نئی نسل تک بھی منتقل کیا جا سکے۔

ہماری ان کاوشوں کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی حاصل ہوئی اور مختلف حلقوں میں اس کام کو سراہا گیا۔ تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مقامی سطح پر متعلقہ اداروں، پالیسی سازوں اور ذمہ دار حکام کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی خاطر خواہ تعاون یا عملی اقدام سامنے نہیں آیا۔

خواہ وہ جموں و کشمیر اکادمی برائے فنون، ثقافت و لسانیات ہو یا دیگر سرکاری محکمے، کسی ادارے نے اب تک ان زبانوں کے تحفظ اور فروغ کے لیے ہماری کوششوں کو مؤثر انداز میں سہارا دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ حالانکہ یہ تمام سرگرمیاں ہماری تنظیم کی جانب سے خالصتاً رضاکارانہ بنیادوں پر انجام دی جاتی رہی ہیں۔

اس وقت بھی ہماری تنظیم بھدرواہی، سرازی اور کشمیری زبانوں میں خبروں کی علیحدہ ویب سائٹس چلا رہی ہے، مگر مالی وسائل کی شدید کمی کے باعث ان میں سے کئی منصوبے فی الحال تعطل کا شکار ہیں۔

وادیِ چناب کی یہ زبانیں صرف اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ ہماری تہذیبی شناخت اور ثقافتی ورثے کا اہم حصہ ہیں۔ ان کے تحفظ اور فروغ کے لیے سرکاری اداروں، سماجی تنظیموں اور متعلقہ حلقوں کی سنجیدہ توجہ اور عملی تعاون ناگزیر ہے۔

آگے کیا راستہ ہے؟

وادیِ چناب اور اس سے جڑی چناپی شناخت کا تحفظ اور فروغ محض جذباتی معاملہ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ قومی، ثقافتی اور انسانی ذمے داری ہے۔ اس ضمن میں چند اہم اقدامات ناگزیر ہیں۔

سب سے پہلے مقامی زبانوں کو ابتدائی تعلیم میں شامل کیا جائے۔ بچے جب اپنی مادری زبان میں پڑھتے ہیں تو وہ نہ صرف بہتر سیکھتے ہیں بلکہ اپنی ثقافت سے بھی جڑے رہتے ہیں۔ بھدرواہی، کشتواڑی اور پوگلی جیسی زبانوں کو نصاب میں شامل کرنا ایک بنیادی ضرورت ہے۔

دوسرا، ان زبانوں کی دستاویزسازی کا فوری اور منظم منصوبہ بنایا جائے۔ یونیورسٹیاں، تحقیقی ادارے اور حکومت مل کر ان زبانوں کی لغات، گرامر اور ادبی مواد مرتب کریں اور انہیں محفوظ کریں۔

تیسرا، وادیِ چناب کی لوک ثقافت، رقص، موسیقی اور دستکاری کے تحفظ کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر فنڈنگ اور ادارہ جاتی سہارا فراہم کیا جائے۔ ثقافتی میلے، ادبی اجلاس اور فنون لطیفہ کی سرگرمیاں اس شناخت کو زندہ رکھنے کا سب سے موثر ذریعہ ہیں۔

چوتھا، سیاسی اور انتظامی سطح پر وادیِ چناب کو ایک مستقل شناخت دی جائے۔ ایک علیحدہ چناب ڈویژن کا قیام یا کم از کم ایک مخصوص ترقیاتی کونسل کا قیام اس خطے کے لوگوں کو سیاسی نمائندگی اور ترقیاتی وسائل تک رسائی دے سکتا ہے۔

پانچواں، گوجر اور بکروال برادریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور ان کی خانہ بدوش روایت کو ختم کرنے کی بجائے اسے ایک قدر کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ ان کے بچوں کے لیے خصوصی تعلیمی انتظامات کیے جائیں جو ان کی طرز زندگی کے ساتھ مطابقت رکھتے ہوں۔

اختتامیہ: ایک وادی کی پکار

وادیِ چناب صرف ایک جغرافیائی نام نہیں۔ یہ ان لاکھوں انسانوں کی روح ہے جو صدیوں سے اس کی گود میں پلے بڑھے ہیں۔ یہ بھدرواہی شاعر کی آواز ہے جو اپنی زبان میں محبت کا گیت گاتا ہے۔ یہ کشتواڑی ماں کی لوری ہے جو اپنے بچے کو سلاتے وقت گنگناتی ہے۔ یہ گوجر چرواہے کی بانسری ہے جو شام کی خاموشی میں پہاڑوں کو گونجاتی ہے۔ یہ اس مزار پر جلتی شمعوں کی روشنی ہے جہاں ہندو اور مسلمان ایک ساتھ سر جھکاتے ہیں۔

جب ہم کسی شناخت کو نظرانداز کرتے ہیں تو ہم صرف ایک نام نہیں مٹاتے، ہم ایک پوری دنیا کو مٹاتے ہیں۔ چناپی شناخت کا تحفظ اس لیے ضروری نہیں کہ یہ کسی سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کرے، بلکہ اس لیے ضروری ہے کہ یہ انسانیت کا ایک انمول حصہ ہے۔ برصغیر کی تہذیبی اور ثقافتی امارت کا ایک روشن باب ہے۔

یہ وادی بولتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم سننے کے لیے تیار ہیں یا نہیں؟

انظر ایوب
مصنف

انظر ایوب

انظر ایوب ایک تجربہ کار صحافی، مصنف اور لسانی حقوق کے علمبردار ہیں۔ وہ "چناب ٹائمز” کے بانی اور مدیرِ اعلیٰ ہیں۔

چناب ٹائمز