نسیمہ نے کھانستے ہوئے دوبارہ روپئے گنے۔ پورے ایک سو بیس روپئے تھے، اس کے لیے تو کسی لاکھوں سے کم نہ تھے۔ پھر بوسیدہ سے رومال کی پوٹلی بنا کر زنگ آلود پیٹی کی تہہ میں رکھ کر آٹا گوندھنے بیٹھ گئی۔
"اجّو۔۔۔ ارے او اجّو۔۔۔” آٹا گوندھے ہاتھ سے چہرے پر گرے بالوں کو اوپر کر کے بیٹے کو آواز دی۔ "اجّو۔۔۔ مر گیا کیا۔۔۔” کئی لمحے دروازے کی سمت دیکھتی رہی، جواب نہ پا کر آٹے میں مزید پانی ملانے لگی۔ نسیمہ کا چہرہ چولہے کے دھوئیں سے سرخ ہوتا جا رہا تھا اور آنکھیں بھیگی۔
"مسجد گیا تھا ماں۔۔۔ یہ دیکھ کھجور لے کر آیا۔۔۔” اجّو نے ہاتھ آگے کرتے ہوئے کہا۔
"یہ لے۔۔۔ دو روپئے کے نمک لے آ۔۔۔” نسیمہ نے سال خوردہ کالی طشتری دیتے ہوئے کہا۔
"پیسے ملے ماں۔۔۔ میرے کپڑے لانے کے لیے۔۔۔؟”
"کتنی بار کہا ہے۔۔۔ ہاں چلیں گے۔۔۔ جا پہلے نمک لے آ، سالن ابل رہا ہے۔”
ایک کہنہ رسیدہ جھونپڑا۔۔۔ جابجا آسمان نظر آتے زنگ آلود پترے۔۔۔ جن پر سکھانے کی غرض سے رکھی ہوئی لکڑیاں اور گنّے کی پھانس۔ دو پرانی صندوقیں۔۔۔ مڑے تڑے جرمن کے چند ڈبّے۔۔۔ ایک خمیدہ چارپائی۔۔۔ ایک چوبی صندوق۔۔۔ ایک ٹوٹا مٹکا اور ایک بیٹا۔۔۔ کل ملا کر یہی اس کا سرمایہ ہے۔
ویسے تو ہفتے بھر سے طبیعت میں گرانی تھی مگر آج تو سویرے ہی سے بخار ہے۔ ڈاکٹر نے ٹائفائیڈ کی نشاندہی کی ہے اور باہر سے دوا کی پرچی دے کر بلاناغہ دوا کے استعمال کی تاکید کی ہے۔ "میرا ایک ہی تو بیٹا ہے۔۔۔ اس کے لیے کپڑے بھی تو لانا ہے۔۔۔” یہ سوچ کر اس نے پرچی پھاڑ کر پھینک دی۔
ہر جا عید کی تیاریاں اپنے شباب پر ہیں۔ ہر کس و ناکس اپنی بساط بھر عید کی خریداری میں مشغول ہے، مگر ایک نسیمہ کا گھر ہے جہاں اجّو کی فرمائشوں کے سامنے اس کے دلاسے، بہلاوے، امیدوں اور وعدوں کے سوا کچھ نہیں۔۔۔ گزرتے روزوں کے ساتھ اس کی طبیعت بھی بگڑتی جا رہی ہے، اب تو کھانسی اپنے ساتھ خون آلود بلغم بھی لے کر آتی۔ دوسرا عشرہ قریب الختم ہے۔ بیٹے اجّو کی روز افزوں فرمائشیں اس کی پریشانی میں اضافہ کر رہی ہیں۔ پریشانیوں اور فرمائشوں کا پہاڑ اپنے ناتواں کاندھے پر اٹھائے وہ کھانس رہی ہے۔۔۔ ہانپ رہی ہے۔۔۔ اندرون سے ٹوٹ رہی ہے۔۔۔ غربت کی مار سہہ رہی ہے۔۔۔ مگر بیٹے کو ایک آس پر۔۔۔ ایک امید پر۔۔۔ ایک وعدے پر پھسلائے رکھی ہے۔
"ماں۔۔۔ کل بیسواں روزہ ہے۔۔۔” اجّو نے نمک دیتے ہوئے کہا۔
"ہاں۔۔۔ پتہ ہے مجھے۔۔۔” اس نے کھانستے ہوئے کہا۔
"تو چلتی کیوں نہیں کپڑے لانے۔۔۔ تو تو سوئی ہی رہتی ہے۔”
"ذرا سر میں درد ہے، ٹھیک ہو جانے دے پھر چلیں گے۔”
"لیکن تو نے تو دوا لائی ہی نہیں۔۔۔ پھر کیسے اچھی ہوگی۔۔۔”
اجّو کے جملے نے اسے چونکا دیا۔ "تو میری فکر مت کر۔۔۔ وہ تو دکھتا ہی رہتا ہے۔۔۔ تو میرا راجہ ہے۔۔۔ تیرے کپڑے ضرور لائیں گے۔۔۔”
تبھی اس پر کھانسی کا دورہ شروع ہوا۔ اوڑھنی منہ سے لگائے کھانستی گئی اور مسلسل کھانستی گئی۔ جب کھانسی نے بے دم کر دیا تو رک کر منتشر سانسوں کو درست کرنے لگی۔
اجّو پتھر کی مورت بنے اس کا چہرہ تکے جا رہا ہے۔
"ہم رات کو چلیں گے تیرے کپڑے لانے۔۔۔” نسیمہ نے قدرے تامّل سے ایک اور دلاسہ دے دیا۔
اجّو ٹس سے مس نہ ہوا، وہ ٹکٹکی باندھے کبھی اس حالت کو دیکھتا تو کبھی باہر۔۔۔
پھر نجانے کیا سوچ کر اس کے قریب آیا، اس کے تپتے ہوئے ہاتھوں پر اپنا نرم ہاتھ رکھتے ہوئے کہا: "ماں۔۔۔ پہلے ہم تیری دوا لائیں گے۔۔۔ عید تو اگلے سال پھر آ جائے گی، لیکن تو چلی جائے گی تو دوبارہ نہیں آئے گی۔۔۔”
