متعلقہ مضامین اور خبریں

مجموعہ مضامین

افسانہ: نجات کی رات

رمضان کا آخری عشرہ تھا۔ یہ وہ آخری دس دن ہیں جو جہنم سے نجات کے کہلاتے ہیں۔ جس میں اللہ تعالی نے پانچ طاق راتوں میں سے ایک رات شب قدر رکھی ہے جسے ہمیں تلاش کرنا ہے۔

"یہ آخری عشرہ جہنم سے آزادی کی راتیں ہیں۔”

مگر لوگوں کو دیکھ کر ایسا نہیں لگتا تھا۔

بازار آباد تھے…
اور مسجدیں خاموش۔۔۔۔

کچھ گنے چنے لوگ تھے جو عبادت میں مصروف تھے۔

شاپنگ مالز اور بازار کی تمام دکانوں کی روشنیاں دور سے ہی آنکھوں کو چکاچوند کر رہی تھیں۔ دکانوں پر سیل کے بورڈ جگمگا رہے تھے۔ چوڑیوں کی جھنکار، جوتوں کی چمک، مہندی کی خوشبو، کپڑوں کے ڈھیر اور لوگوں کے چہروں پر عجیب سی کیفیت …۔۔ اتنی بھیڑ تھی کہ جیسے رمضان ختم ہونے سے پہلے خریداری مکمل کرنا فرض ہو۔

سائرہ اپنے دوستوں کے ساتھ اسی ہجوم میں کھڑی تھی۔

ہاتھوں میں کئی تھیلے تھے۔

“یہ والا سوٹ کل کی افطار پارٹی کے لیے۔”
“اور یہ عید کے دن کے لیے۔ یہ باسی عید کے لئے، میچینگ جوتے چوڑیاں”
“اور ذرا تصویر بھی لے لو… رمضان کی شاپنگ یاد رہے گی۔”

سب ہنس پڑے۔

موبائل کا کیمرہ چمکا۔

کیپشن میں لکھا گیا۔

"Blessing Shab e Qadar”

رات گہری ہوتی جا رہی تھی۔

گھڑی نے رات کے دو بجائے تو مال بند ہونے لگا۔۔۔ مگر دکانیں ساری روشن تھیں اور سحری تک رہنے والی تھی۔ کھانے پینے کی بھی خوب چیزیں تھیں۔۔۔۔

لوگ تھکے ہوئے مگر ابھی بھی شاپنگ کر رہے تھے… جیسے کوئی بڑی عبادت مکمل کر رہے ہوں۔

اسی وقت دور مسجد سے قرآن کی آواز آ رہی تھی۔ کچھ دیر بعد تہجد کا بھی وقت تھا…

اور انہی راتوں میں کہیں شبِ قدر چھپی ہوئی تھی۔

وہ رات جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ

ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔

مگر لوگوں کو اس سے زیادہ فکر اس بات کی تھی کہ عید کی شاپنگ مکمل ہوئی یا نہیں۔

سائرہ ایک دکان سے باہر نکلی۔ تقریبأ سحری کا وقت ہونے کو تھا۔۔۔۔

دروازے کے پاس ایک بوڑھی عورت بیٹھی تھی۔

اس کے سامنے ایک پرانا سا کپڑا بچھا تھا۔

اس پر چند سکے رکھے تھے۔

ایک چھوٹا سا لڑکا اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔

“نانی… آج کچھ ملا؟”

بوڑھی عورت نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

“نہیں بیٹا… اللہ نے سحری کا انتظام کر دیا ہے ان سکوں سے روٹی لیتے ہیں اور ایک پانی کی بوتل ”

لڑکے نے حیرت سے پوچھا۔

“صرف روٹی اور پانی؟”

بوڑھی عورت مسکرا دی۔

“روزہ رکھنے والوں کے لیے یہ بھی نعمت ہے بیٹا۔”

"نانی! میرے پاس تو کپڑے بھی نہیں ہیں۔”

"بیٹا ! اللہ بڑا کار ساز ہے وہ انتظام کر دے گا۔”

پھر اس نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے اور آہستہ آہستہ دعا کرنے لگی۔

“یا اللہ… رمضان کے یہ آخری دن ہیں…
پتا نہیں ہم اگلا رمضان دیکھیں گے یا نہیں…
اگر رمضان کے اس آخری عشرے میں آج ستائیسویں رات ہے۔۔۔۔ یہ شبِ قدر ہو تو ہمیں بھی اپنی رحمت میں شامل کر لینا…
اور ہمیں جہنم سے نجات دے دینا…”

سائرہ کے قدم وہیں رک گئے۔

اس کے ذہن میں اچانک وہ میز گھوم گئی…

کھانوں سے بھری ہوئی…

جس کے گرد بیٹھ کر وہ تصویریں بنا رہے تھے۔ آدھا کھایا تھا آدھا چھوڑ دیا تھا۔

اور یہاں…

دو روٹی اور پانی کو سحری سمجھ کر شکر ادا کیا جا رہا تھا۔

دور مسجد سے قرآن کی آواز اب بھی آ رہی تھی۔

مگر بازار کی روشنیاں اس آواز کو دبا رہی تھیں۔

سائرہ نے اپنے ہاتھوں میں بھرے ہوئے تھیلے دیکھے۔

پھر اس بوڑھی عورت کو دیکھا۔

پھر آسمان کی طرف دیکھا۔

اچانک اس کے دل میں ایک سوال اٹھا…

اگر انہی پانچ طاق راتوں میں آج وہ رات ہو…
جس میں فرشتے تقدیریں لکھ رہے ہوں۔

اگر آج وہ رات ہو…

جس میں جہنم سے نجات پانے والوں کے نام درج ہو رہے ہوں۔

تو کیا اس فہرست میں

وہ لوگ بھی ہوں گے

جو ساری رات بازاروں میں گزار آئے ہیں؟

اس کے ہاتھوں میں موجود تھیلے اچانک بہت ہلکے لگنے لگے…

اور دل بہت بھاری۔

وہ گاڑی کی طرف بڑھنے لگی۔

مگر چند قدم چل کر رک گئی۔

اس نے مڑ کر دیکھا…

بوڑھی عورت اور وہ بچہ سحری کے لیے وہی دو روٹی پانی میں ڈوبو کر کھا رہے تھے۔ سحری کی رب کا شکر ادا کیا۔۔۔۔

اور اسی لمحے دور مسجد سے مؤذن کی آواز ابھری۔۔۔

“الصلاة خیر من النوم”

نماز نیند سے بہتر ہے۔

سائرہ کے دل میں جیسے کسی نے تیر سا مار دیا۔

اسے پہلی بار محسوس ہوا…

کہ آج کی رات شاید ان راتوں میں سے ایک ہو…

جس کے لیے پورے سال انتظار کیا جاتا ہے۔

اور وہ…؟

وہ یہ قیمتی رات

شاپنگ بیگز کے ساتھ گزار کر لوٹ رہی تھی۔

وہ گاڑی میں بیٹھ گئی۔

بازار کی روشنیاں اب بھی چمک رہی تھیں۔

مگر اس کے دل میں پہلی بار عجیب سا اندھیرا اتر آیا تھا۔

اس نے سوچا…

کل جب عید آئے گی

لوگ نئے کپڑے پہن کر خوش ہوں گے۔

مگر شاید

ان میں بہت سے لوگ ایسے بھی ہوں گے

جن کے پاس

عید کے کپڑے تو ہوں گے…

مگر

جہم سے نجات کی رات کھو چکی ہوگی۔

سیدہ تبسم ناڈکر
سیدہ تبسم ناڈکر
ممبئی