متعلقہ مضامین اور خبریں

مجموعہ مضامین

ایران کے سائے میں بدلتا مشرقِ وسطیٰ اور ہندوستان کے لیے اس کے مضمرات

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ہمیشہ سے طاقت، تیل اور سیکیورٹی کے پیچیدہ امتزاج سے تشکیل پاتی رہی ہے۔ لیکن گزشتہ دو دہائیوں میں اس خطے کی جیوپولیٹکس کا ایک مرکزی محور ایران اور خلیجی عرب ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک رقابت بن چکا ہے۔ اس رقابت نے نہ صرف خطے کے سیکیورٹی ڈھانچے کو متاثر کیا ہے بلکہ عالمی معیشت، اسلحہ کی تجارت اور عالمی طاقتوں کی سفارت کاری کو بھی نئی سمت دی ہے۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے خلیجی ممالک اپنی معیشت کا بڑا حصہ دفاعی اخراجات پر خرچ کر رہے ہیں، جبکہ امریکہ اس خطے میں سیکیورٹی فراہم کرنے والی سب سے بڑی طاقت کے طور پر موجود ہے۔ اس پورے نظام کے پیچھے ایران کا عنصر ایک ایسا محرک بن چکا ہے جس نے خلیج کی سیاست کو ایک مستقل اسٹریٹجک کشمکش میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ کشمکش صرف علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے اثرات جنوبی ایشیا تک محسوس کیے جاتے ہیں، خاص طور پر ہندوستان جیسے ملک کے لیے جو توانائی، تجارت اور تارکین وطن کے حوالے سے خلیجی خطے سے گہرے طور پر جڑا ہوا ہے۔

خلیجی سیکیورٹی آرڈر کی بنیاد

خلیج فارس میں موجودہ سیکیورٹی نظام کی بنیاد 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد پڑی۔ ایران میں شاہی حکومت کے خاتمے اور اسلامی جمہوریہ کے قیام نے خلیجی بادشاہتوں کو ایک نئے نظریاتی اور سیاسی چیلنج کا سامنا کرایا۔ اس کے بعد ایران۔عراق جنگ نے خطے میں طاقت کے توازن کو مزید غیر مستحکم کر دیا۔

خلیجی ممالک نے محسوس کیا کہ انہیں ایک مضبوط بیرونی سیکیورٹی چھتری کی ضرورت ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب امریکہ خطے میں سب سے اہم سیکیورٹی شراکت دار کے طور پر ابھرا۔ وقت کے ساتھ یہ تعلق ایک وسیع اقتصادی اور دفاعی نظام میں تبدیل ہو گیا۔ خلیجی ممالک نے اپنے دفاعی بجٹ میں غیر معمولی اضافہ کیا اور امریکی اسلحہ کی خریداری اس کا اہم حصہ بن گئی۔

آج سعودی عرب دنیا کے سب سے بڑے دفاعی خرچ کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور اس کا دفاعی بجٹ سالانہ تقریباً ستر سے پچھتر ارب ڈالر کے درمیان رہتا ہے۔ امریکی اسلحہ برآمدات کا ایک بڑا حصہ بھی اسی خطے کو جاتا ہے۔

ایران، خطے کی طاقت کا مرکز اور تنازعہ کا محور

مشرقِ وسطیٰ کی جیوپولیٹکس میں ایران ایک کلیدی کردار رکھتا ہے۔ ایران نہ صرف جغرافیائی لحاظ سے خلیج فارس پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ اس کا بیلسٹک میزائل پروگرام اور علاقائی نیٹ ورک بھی اسے ایک اہم اسٹریٹجک طاقت بناتا ہے۔

خلیجی ممالک کے لیے سب سے بڑا خدشہ ایران کا وہ علاقائی اثر و رسوخ ہے جو مختلف تنازعات کے ذریعے بڑھتا ہوا نظر آتا ہے۔ یمن میں حوثی تحریک، لبنان میں حزب اللہ اور شام میں بشار الاسد کی حکومت کی حمایت جیسے عوامل نے خلیجی ممالک کو یہ احساس دلایا ہے کہ ایران صرف ایک ریاستی طاقت نہیں بلکہ ایک علاقائی نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

اسی وجہ سے خلیجی ممالک اپنی دفاعی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔ جدید میزائل دفاعی نظام، فضائی نگرانی کے نیٹ ورک اور جدید جنگی طیارے اس دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

جنگ کا سایہ اور اسلحہ کی دوڑ

ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان براہ راست جنگ تو ابھی تک نہیں ہوئی، لیکن خطے میں جاری پراکسی جنگوں نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک مستقل کشیدگی کی حالت میں رکھا ہوا ہے۔ یمن کی جنگ اس کی سب سے نمایاں مثال ہے جہاں سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد اور ایران کے قریب سمجھی جانے والی حوثی تحریک کے درمیان تنازعہ جاری ہے۔

اسی طرح شام کی خانہ جنگی میں بھی ایران اور خلیجی ممالک مختلف فریقوں کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ یہ پراکسی جنگیں دراصل اس بڑی اسٹریٹجک کشمکش کا حصہ ہیں جس میں ایران اور خلیجی ممالک خطے میں اثر و رسوخ کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں۔ اس کشمکش نے مشرقِ وسطیٰ کو دنیا کی سب سے بڑی اسلحہ مارکیٹوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ خلیجی ممالک اپنی جی ڈی پی کا تقریباً چھ سے دس فیصد دفاع پر خرچ کرتے ہیں جو عالمی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔

امریکی فوجی موجودگی اور سیکیورٹی کا نظام

اس پورے سیکیورٹی نظام میں امریکہ کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈے اور بحری بیڑے اس خطے کے طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

قطر میں موجود العدید ایئر بیس امریکہ کا سب سے بڑا فضائی اڈہ ہے جہاں ہزاروں فوجی تعینات ہیں۔ بحرین میں امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑا خلیج فارس کے سمندری راستوں کی نگرانی کرتا ہے۔ یہ فوجی ڈھانچہ صرف دفاعی حکمت عملی نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ خلیج فارس عالمی تیل تجارت کا ایک بڑا مرکز ہے۔

پیٹروڈالرز اور عالمی معیشت

خلیجی ممالک کی معیشت تیل پر مبنی ہے اور اسی تیل سے حاصل ہونے والی دولت کو اکثر پیٹروڈالرز کہا جاتا ہے۔ یہ ڈالر عالمی مالیاتی نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

خلیجی ممالک کی بڑی سرمایہ کاری امریکی بینکوں، مالیاتی اداروں اور دفاعی صنعت میں جاتی ہے۔ اس طرح ایک معاشی چکر وجود میں آتا ہے جس میں تیل کی دولت، اسلحہ کی تجارت اور عالمی سیکیورٹی سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

ہندوستان کے لیے اس صورتحال کی اہمیت

ہندوستان کے لیے خلیجی خطہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ہندوستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ اسی خطے سے حاصل کرتا ہے۔ اگر خلیج فارس میں ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ جائے تو سب سے فوری اثر تیل کی قیمتوں پر پڑتا ہے، جس کا براہ راست اثر ہندوستانی معیشت پر ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ خلیجی ممالک میں تقریباً آٹھ سے نو ملین ہندوستانی تارکین وطن کام کرتے ہیں۔ ان کی ترسیلات زر ہندوستانی معیشت کے لیے ایک اہم ذریعہ ہیں۔

ہندوستان کی سفارتی حکمت عملی

اسی لیے ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں خلیجی خطہ ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ہندوستان ایک محتاط سفارتی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایک طرف وہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات کو مضبوط کر رہا ہے جبکہ دوسری طرف ایران کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو مکمل طور پر ختم نہیں کرنا چاہتا۔

ایران کے ساتھ ہندوستان کا تعلق جغرافیائی اور اسٹریٹجک دونوں لحاظ سے اہم ہے، خاص طور پر وسطی ایشیا تک رسائی کے منصوبوں کے حوالے سے۔

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست دراصل طاقت، توانائی اور سیکیورٹی کے ایک پیچیدہ توازن پر قائم ہے۔ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان جاری اسٹریٹجک رقابت نے اس خطے کو ایک مستقل کشیدگی میں رکھا ہوا ہے۔ یہ کشمکش صرف علاقائی سیاست تک محدود نہیں بلکہ عالمی معیشت اور بین الاقوامی تعلقات کو بھی متاثر کرتی ہے۔

ہندوستان جیسے ملک کے لیے، جو توانائی، تجارت اور انسانی وسائل کے حوالے سے اس خطے سے گہرا تعلق رکھتا ہے، خلیج کی سیاست کو سمجھنا اور اس میں سفارتی توازن برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کی یہ خاموش جنگ شاید فوری طور پر ختم نہ ہو، لیکن اس کے اثرات آنے والے برسوں تک عالمی سیاست کو شکل دیتے رہیں گے۔

محمد انیس الرحمن خان

محمد انیس الرحمن خان، نئی دہلی