رمضان روحانی کانفرنس: ہزاروں افراد نے مل کر افطار کیا
رمضان روحانی کانفرنس کے سلسلے میں کالی کٹ مرکز میں منعقد ہونے والے گرانڈ کمیونٹی افطار میں تقریباً تین ہزار روزہ داروں نے ایک ساتھ افطار کیا۔ ۲۵ویں شب، لیلۃ القدر کی نسبت سے منعقد ہونے والی روحانی شب مکمل بیداری کے ساتھ سحری تک جاری رہی۔ اس تقریب میں شرکت کے لیے ریاست کے مختلف اضلاع اور ہمسایہ ریاستوں سے کثیر تعداد میں لوگ مرکز پہنچے۔

دوپہر ایک بجے مسجد الحاملی سے رمضان روحانی اجلاس کا آغاز گرانڈ مفتی آف انڈیا شیخ ابوبکر احمد نے کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ مقدس ایام کو نیکیوں اور عبادات سے آراستہ کرنا ہی حضرت محمد ﷺ اور بزرگانِ دین کا طریقہ رہا ہے، اور مسلمانوں کو چاہیے کہ طریقۂ مصطفیٰ ﷺ کو عملی جامہ پہنائیں۔ شیخ نے اپنے ناصحانہ خطاب میں کثرتِ عبادت کی تلقین کی اور کہا کہ اجتماعی افطار سے معاشرے میں باہمی محبت، ہم آہنگی اور اتحاد و اتفاق پیدا ہوتا ہے۔
مرکز کے ڈائریکٹر جنرل سی محمد فیضی نے افتتاحی کلمات پیش کیے، جبکہ وی پی ایم فیضی ویلیاپّلی نے صدارت کی۔ اس موقع پر سی پی عبیداللہ ثقافی نے بھی خطاب کیا۔ ڈاکٹر حسین ثقافی اور عبدالرحمٰن ثقافی بھی تقریب میں شریک رہے۔
افتتاحی اجلاس کے بعد منعقد ہونے والی زکوٰۃ اسٹڈی کلاس کی قیادت کنجی محمد ثقافی نے کی، جبکہ ختم کی دعا کی قیادت سید شرف الدین جمال اللیل نے کی۔ پروگرام کے قابلِ ذکر حصوں میں تلاوتِ قرآن، اسماء البدریہ، اسماء الحسنیٰ اور حلقۂ ذکر شامل رہے۔ افطار کے بعد اوّابین، تسبیح، تراویح اور وتر کی نمازیں ادا کی گئیں۔
نمازِ عشاء کے بعد مرکز کنونشن سینٹر میں عوامی اجلاس کا انعقاد عمل میں آیا۔ پروگرام کا آخری اور نہایت پُراثر سیشن توبہ و استغفار کی مجلس تھی، جس کی قیادت سید شہاب الدین اہدل نے کی۔ فلک شگاف گریہ و زاری اور آمین کی صداؤں سے سارا مجمع گونج اٹھا۔ آخر میں سحری تناول کرنے کے بعد شرکاء اپنے گھروں کو روانہ ہوئے۔
اہم شرکاء میں سید علی بافقیہ، سید عبدالرحمٰن البخاری، سید شہاب الدین، سید عبدالفتاح اہدل، عبدالجلیل ثقافی اور عبدالعزیز ثقافی سمیت مرکز کے مدرسین، سنی تنظیموں کے رہنما اور دیگر شخصیات شامل تھیں۔
