جموں، ۱۵ مارچ: مرکزی وزیرِ مملکت برائے سماجی انصاف و بااختیاری، جناب رام داس اٹھاولے نے کہا ہے کہ آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں ترقیاتی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں خطے میں سڑک اور ریلوے رابطہ بہتر ہوا ہے، جس سے معاشی سرگرمیوں کو مزید فروغ ملا ہے۔
جموں میں آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جناب رام داس اٹھاولے نے کہا کہ جموں و کشمیر میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے باعث لوگوں کی آمد و رفت آسان ہوئی ہے اور اقتصادی سرگرمیوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے رابطہ بھی مزید مستحکم ہوا ہے اور جدید سہولیات کے ساتھ ٹرین خدمات میں اضافہ کیا گیا ہے، جن میں وندے بھارت ایکسپریس کی شمولیت بھی نمایاں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزارتِ ریلوے خطے میں ریلوے نیٹ ورک کو مزید مستحکم بنانے کے لیے تن دہی سے کام کر رہی ہے۔
وزیرِ موصوف نے کہا کہ آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں ترقی کی رفتار میں واضح تیزی آئی ہے۔ سرمایہ کاری میں اضافہ، بہتر بنیادی ڈھانچہ اور متعدد سرکاری اقدامات کے باعث روزگار کے مواقع بڑھے ہیں اور خطے میں تیز تر اور پائیدار ترقی ممکن ہوئی ہے۔
انہوں نے جموں و کشمیر کے عوام کو فائدہ پہنچانے والی مختلف فلاحی اسکیموں کا بھی تفصیل سے ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مارچ ۲۰۲۶ تک پردھان منتری جن دھن یوجنا کے تحت مرکز کے زیرِ انتظام خطے جموں و کشمیر میں ۲۴ لاکھ ۳۷ ہزار بینک کھاتے کھولے جا چکے ہیں، جبکہ ۲۰۱۴ سے ۲۰۲۶ تک اس اسکیم کے تحت ۱۷۵۴ کروڑ ۲۵ لاکھ روپے کی رقم جاری کی گئی ہے، جس سے مالی شمولیت کو فروغ ملا ہے۔
اسی طرح پردھان منتری اُجولا یوجنا کے تحت ۱۲ لاکھ ۷۹ ہزار گیس کنکشن فراہم کیے گئے ہیں، تاکہ صاف ستھرے ایندھن تک عوام کی رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پردھان منتری مُدرا یوجنا کے تحت ۲۰۱۵ سے ۲۰۲۶ تک ۲۵ لاکھ ۹ ہزار قرضے مستحقین کو فراہم کیے گئے ہیں، جن کی مجموعی مالیت ۵۴ ہزار ۲۶۷ کروڑ ۹۱ لاکھ روپے ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) کے تحت ۲۰۱۶ سے ۲۰۲۶ تک جموں و کشمیر میں ۳۵ ہزار مکانات تعمیر کیے گئے ہیں، جن پر ۵۸۶ کروڑ روپے لاگت آئی ہے، تاکہ ہر شہری کو مناسب رہائش فراہم کی جا سکے۔ اسی طرح پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا کے تحت ۲۰۱۸ سے ۲۰۲۶ تک ۳۶۳۸ کروڑ روپے فراہم کیے گئے، جس سے ۱۹ لاکھ ۷۳ ہزار افراد مستفید ہوئے ہیں۔
جناب رام داس اٹھاولے نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر میں ۲۰۲۳ سے ۲۰۲۵ کے دوران ۱۳ اولڈ ایج ہومز کے لیے ۹۴ لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں۔
ملک کی معاشی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت دنیا کی دسویں بڑی معیشت سے ترقی کرتے ہوئے چوتھی بڑی معیشت بن چکا ہے اور توقع ہے کہ عنقریب تیسری بڑی معیشت کا درجہ بھی حاصل کر لے گا۔ انہوں نے کہا کہ ”میک اِن انڈیا” جیسے اقدامات اور مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) کی مسلسل سرکاری حمایت سے پیداوار اور برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت مختلف برادریوں کے سماجی و معاشی احوال کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ذات پر مبنی مردم شماری کا آغاز کرے گی۔ ان کے مطابق ملک کی کل آبادی میں درج فہرست ذاتوں کا تناسب تقریباً ۱۶.۶ فیصد ہے۔
وزیر نے مزید کہا کہ آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں معذور افراد (دیویانگ جن) کو بھی تحفظات (ریزرویشن) کے فوائد حاصل ہو رہے ہیں، جس سے انہیں مواقع اور سماجی انصاف تک بہتر رسائی میسر آ رہی ہے۔ انہوں نے حکومت کے اس عزمِ راسخ کا اعادہ کیا کہ جامع ترقی، سماجی انصاف اور معاشی خوشحالی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، تاکہ سرکاری اسکیموں کے ثمرات معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچ سکیں۔
عالمی حالات کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں جناب رام داس اٹھاولے نے کہا کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث ایندھن کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت کے پاس ایندھن کا خاطر خواہ ذخیرہ موجود ہے اور بلا تعطل سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
