تہران — امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فوجی آپریشن کا پندرہواں روز بھی خون آلود رہا۔ آج اصفہان صوبے کے مرکزی علاقوں پر میزائلوں کی بارش ہوئی جس میں درجنوں افراد جاں بحق ہوئے۔ ۲۸ فروری کو سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کے بعد بھڑکنے والی یہ جنگ اب پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق ۲۸ فروری سے اب تک امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں کم از کم ۱۴۴۴ افراد شہید اور ۱۸ ہزار ۵ سو ۵۱ سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ۸ ماہ کے شیرخوار بچے سے لے کر ۸۸ سال کے بزرگ تک شامل ہیں۔ ایران کا مزید دعویٰ ہے کہ اب تک تقریباً دس ہزار شہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس جنگ کا آغاز اس وقت ہوا جب ۲۸ فروری کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا۔ ۸ مارچ کو ان کے فرزند مجتبیٰ خامنہ ای کو نئے سپریم لیڈر کے طور پر منتخب کیا گیا۔ تاہم نئی قیادت نے بھی جنگ بندی سے انکار کرتے ہوئے مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
ایران کا جوابی وار
ایران نے بھی خاموش نہیں بیٹھا اور ۵ مارچ تک ۵۰۰ سے زائد بیلسٹک اور بحری میزائل نیز تقریباً ۲ ہزار ڈرونز داغے — جن میں سے ۴۰ فیصد اسرائیل اور ۶۰ فیصد خطے میں موجود امریکی اہداف کی جانب تھے۔ تہران نے سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کو بھی نشانہ بنایا جس سے خطے میں کشیدگی نئی سطح پر پہنچ گئی ہے۔
نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس بندش سے عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دیگر ممالک سے درخواست کی ہے کہ وہ آبنائے کو کھلا رکھنے کے لیے جنگی جہاز روانہ کریں اور واضح کیا ہے کہ وہ فی الحال ایران سے کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر تاریخی طور پر ۴۰ کروڑ بیرل خام تیل جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔
لبنان پر اسرائیلی حملے
لبنان میں صورتحال بھی انتہائی سنگین ہے۔ لبنانی حکام کے مطابق گزشتہ پیر سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم ۶۸۷ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں ۹۸ بچے بھی شامل ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں تقریباً ۷ لاکھ سے ۷ لاکھ ۵۰ ہزار افراد بے گھر ہو گئے ہیں جو ایک بہت بڑا انسانی المیہ ہے۔
امریکہ نے اپنے فوجی وسائل میں اضافہ کرتے ہوئے دنیا کے سب سے بڑے بحری جہازوں میں سے ایک یو ایس ایس نمٹز کی سروس مارچ ۲۰۲۷ تک بڑھا دی ہے — جو اصل شیڈول سے تقریباً ایک سال زیادہ ہے۔ یہ فیصلہ ایران کے ساتھ جاری فوجی تصادم کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
