متعلقہ مضامین اور خبریں

مجموعہ مضامین

جموں کے ساتھ ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی: شام لال شرما

بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران موجودہ حکومت کے اداروں میں اسامیوں کی تقسیم پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے جموں کے ساتھ کھلا امتیاز قرار دیا۔ پارٹی رہنماؤں نے الزام لگایا کہ حکومت جموں کے اضلاع کے ساتھ سوتیلا سلوک کر رہی ہے اور وادی کے مقابلے میں جموں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شام لال شرما نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں طبی اداروں میں کل ملا کر 17 ہزار 190 اسامیاں تشکیل دی ہیں جن میں سے صرف 17 اضلاع میں 73 اسامیاں رکھی گئی ہیں جبکہ جموں کے 10 اضلاع میں صرف 46 اسامیاں دی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس تقسیم میں جموں کے ساتھ واضح ناانصافی کی گئی ہے جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جموں کے ضلع کے مختلف ہسپتالوں میں اسامیوں کی تعداد انتہائی کم رکھی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جموں میں میڈیکل کالج کے لیے صرف 61 اسامیاں رکھی گئی ہیں جبکہ وادی کے ایک میڈیکل کالج کو اس سے کہیں زیادہ اسامیاں دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ پر الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک اسپتال میں 196 اور دوسرے میں 200 بیڈز پر مشتمل میٹرنٹی اسپتال کے لیے صرف 237 اسامیاں رکھی گئی ہیں جو انتہائی ناکافی ہیں۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسامیوں کی تقسیم کا فوری طور پر ازسرِنو جائزہ لیا جائے اور جموں کے ساتھ انصاف کیا جائے۔ شام لال شرما نے کہا کہ اگر حکومت نے اس ناانصافی کو دور نہ کیا تو پارٹی سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہوگی اور جموں کے عوام اپنے حق کے لیے بھرپور آواز اٹھائیں گے۔

پریس کانفرنس میں موجود دیگر رہنماؤں نے بھی شام لال شرما کی باتوں کی تائید کی اور کہا کہ جموں کے ساتھ ہر شعبے میں امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسامیوں کی تقسیم میں آبادی کے تناسب کو مدِنظر رکھا جائے۔ پریس کانفرنس کے دوران بی جے پی کے کئی دیگر رہنما اور ضلعی عہدیدار بھی موجود تھے جنہوں نے حکومت کے اس فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف جمہوری جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔